کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 465
جائے وہ قطعاً فیصلہ نہ دے، کہ مبادا کسی نفسیاتی اثر کی بنا پر فیصلہ صادر ہوجائے۔‘‘ آپ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہی کے نام لکھا: ’’ایسی حالت میں فیصلہ نہ کرو جب غصہ سے ہو۔‘‘ [1] اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے منصب قضاء پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں غصہ کی حالت میں فیصلہ نہیں کروں گا۔ [2] چوں کہ سخت بھوک وپیاس بعض معاملات میں جلد از جلد فیصلہ دینے اور چڑ چڑے پن کا سبب بن جاتے ہیں اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے شرط لگا دی تھی کہ ’’کوئی قاضی اس وقت تک فیصلہ نہ کرے جب تک کہ کھا پی کر آسودہ نہ ہو۔‘‘ [3] ۹: ہر اس چیز سے اجتناب جو قاضی (کی حق گوئی) پر اثر انداز ہو: مثلاً رشوت خوری اور خرید وفروخت میں تاجروں کی طرف سے ملنے والی خصوصی رعایت اور ہدیہ وغیرہ قبول کرنا۔ چنانچہ اسی اندیشہ کے پیش نظر عمر رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کو تجارت کرنے، بازار میں خود سامان خریدنے، اور ہدیہ ورشوت قبول کرنے سے منع کردیا تھا اور اس سلسلے میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ تم نہ کوئی سامان فروخت کرو اور نہ خریدو، نہ تجارت میں شرکت کرو اور نہ فیصلہ کرنے کے لیے رشوت لو اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے منصب قضا پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں خود نہ کچھ فروخت کروں گا نہ خریدوں گا، اور نہ رشوت لوں گا۔‘‘ اور فرمایا: ’’رشوت لینے سے بچو، اور خواہشاتِ نفس کے مطابق فیصلہ کرنے سے دور رہو۔ [4] ۱۰: ظاہری دلائل وقرائن کا اعتبار: فریقین کی نیتوں سے قطع نظر ان کے ظاہری دلائل پر اعتبار کیا جائے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: ’’ہم تم کو پہچانتے تھے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے، وحی نازل ہوتی تھی اور تمہاری باتیں (نیتیں) ہمیں معلوم ہوجاتی تھیں، لیکن آج ہم تم کو صرف تمہاری باتوں سے پہچان سکتے ہیں، جس نے ہمارے سامنے خیر و بھلائی کا مظاہرہ کیا ہم اسے اچھا سمجھیں گے، اور جس نے برائی کا مظاہرہ کیا اسے برا جانیں گے اور اس کی وجہ سے اس سے نفرت کریں گے، اور تمہاری نیتوں کا [1] صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق، ص: ۲۵۹۔ [2] مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ، ص: ۴۳۸۔ [3] مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ، ص: ۴۳۸