کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 461
دعائے مغفرت کی اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: تمہی جیسی عورتیں ذکر خیر میں باقی رہتی ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر وہ عورت قدرے شرمندہ ہوئی اور واپس جانے لگی تو کعب نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نے عورت کو اس کے شوہر سے اس کا حق نہیں دلوایا۔ آپ نے کہا: کیا اس نے شکایت کی ہے؟ کعب نے کہا: اپنے خاوند کی زبردست شکایت کی ہے۔ آپ نے کہا: کیا یقینا وہ شکایت ہی کرنا چاہتی تھی؟ کعب نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: عورت کو میرے پاس بلاؤ، (جب وہ واپس آئی تو) آپ نے کہا: حق بات کہنے سے تم مت جھجکو، ان (کعب) کا کہنا ہے کہ تم اپنے شوہر کی شکایت کرنا چاہتی ہو کہ وہ تمہارے پاس نہیں آتا؟ عورت نے جواب دیا: جی ہاں، میں ایک نوجوان عورت ہوں مجھے بھی وہ خواہش ہوتی ہے جو دیگر عورتوں کی ہوتی ہے۔ آپ نے اس کے شوہر کو بلوایا، جب وہ آگیا تو آپ نے کعب سے کہا: ان دونوں میں فیصلہ کرو۔ کعب نے کہا: امیر المومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے عزم کرلیا ہے کہ تم ہی ان دونوں کا فیصلہ کرو کیونکہ تم نے ان دونوں کے معاملہ کو جس طرح سمجھ لیا، میں نہیں سمجھ سکا۔ کعب نے کہا: میں فرض کرلیتا ہوں اس عورت کی تین اور سوکنیں ہیں، اور یہ اس آدمی کی چوتھی بیوی ہے، لہٰذا میرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ تین دن اور راتیں اپنی عبادت میں گزارے اور اس عورت کے پاس ایک دن اور رات رہ کر اس کے حقوق ادا کرے۔ فیصلہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! پہلے فیصلہ کے مقابلے میں تمہارا دوسرا فیصلہ مجھے زیادہ ہی پسند ہے، جاؤ آج سے تم بصرہ کے قاضی ہو۔ [1] معتدل سختی و متعدل نرمی: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ (منصب قضا) صرف اسی آدمی کے لیے موزوںہے جس میں چار خوبیاں ہوں: نرمی ہو لیکن اتنی نہیں کہ اس میں کمزوری ہو، سختی ہو لیکن اتنی نہیں کہ اس میں ٹیڑھا پن ہو، کفایت شعار ہو لیکن اتنا نہیں کہ بخیلی کرے، روادار ہو لیکن اتنا نہیں کہ اس میں حد سے تجاوز کرجائے۔ [2] اور ایک مرتبہ فرمایا: اللہ کے حکم کو صرف وہی آدمی نافذ کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے نادر اور غریب سمجھ میں نہ آنے والے الفاظ نہ نکالے اور اس کی سخت مزاجی کی وجہ سے حق سے ناامید نہ ہوجائے۔ [3] شخصی قوت ودبدبہ: آپ نے فرمایا: میں ابومریم کو (منصب قضاء سے) معزول کردوں گا اور ایسے شخص کو یہ عہدہ سونپوں گا کہ اگر اسے فاسق وفاجر آدمی دیکھے تو گھبرا جائے، پھر آپ نے ابومریم کو بصرہ کے منصب قضاء سے معزول کردیا اور [1] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۱۴۵۔ [2] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۱۴۵۔ [3] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب، ص: ۷۲۳۔ المغنی: ۹/ ۳۷۔ [4] نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: ۲/ ۱۰۲۔