کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 46
قوت تحمل و برداشت، بہادری اور سخت گیری جیسی صفات کا مالک بنادیا۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کی پوری زندگی ایسی نہ تھی کہ صرف بکریاں چرانے میں گزری ہو[1] بلکہ شروع جوانی میں مختلف جسمانی ورزش میں مہارت حاصل کی، کشتی لڑنے، گھوڑ سواری کرنے اور گھوڑ دوڑ میں خوب مشق کی، شعر و شاعری میں دلچسپی لی اور اس میں کمال حاصل کیا۔[2] آپ اپنی قوم کی تاریخ اور ان کے حالات میں دلچسپی لیتے، عرب کی بڑی تجارتی منڈیوں مثلاً عکاظ، مجنہ اور ذی المجاز کے بازاروں میں حاضر ہونے کے حریص ہوتے، اس سے آپ نے تجارت، عرب کی تاریخ اور قبیلوں میں ہونے والے جھگڑوں، ان کے تفاخر اور منافرت کے واقعات کے بارے میں بہت کچھ جانا۔ اس لیے کہ وہ واقعات و حوادث ادبی میراث کے طور پر تمام قبیلوں اور ان کے سرداروں کے درمیان پیش کیے جاتے تھے اور بڑے بڑے ادباء و ناقدین انہیں حفظ و تحریر میں لاتے تھے۔اسی چیز نے عربی تاریخ کا دائرہ وسیع اور ہمیشہ کے لیے اسے زندہ رکھا، جس پر کبھی بھول کا پردہ نہ پڑا۔ بسا اوقات حادثات کی چنگاریاں اڑیں اور لڑائی کی شکل میں ظاہر ہوئیں۔ بذات خود صرف عکاظ چار لڑائیوں کا براہ راست سبب بنا، جنہیں حروب فجار [3] کہا جاتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ تجارت میں مشغول ہوئے اور اس سے خوب فائدہ اٹھایا، اسی تجارت نے ان کو مکہ کے مالداروں میں شامل کر دیا۔ تجارت کی غرض سے آپ نے جن شہروں کی زیارت کی وہاں سے متعدد معلومات حاصل کیں۔ موسم گرما میں شام اور سرما میں یمن کا سفر کیا [4] اور جاہلیت کی مکی زندگی میں اپنا نمایاں مقام بنا لیا اور بڑے زور شور کے ساتھ اس کے معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے بزرگ اجداد کی تاریخ نے آپ کی ہمت افزائی کی، آپ کے دادا نفیل بن عبد العزیٰ قریش کے ان لوگوں میں سے تھے جن کے پاس لوگ فیصلے لے کر آتے تھے۔ [5] جب کہ آپ کے بڑے دادا کعب بن لؤی عربوں میں بلند مقام و مرتبہ والے اور صاحب حیثیت تھے۔ مؤرخین نے آپ کی تاریخ وفات عام الفیل[6] بتائی ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اہم مقام اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں پایا تھا۔ اسی مقام و مرتبہ نے ان کو تجربہ، عقلمندی اور عربوں کی تاریخ کی معرفت سے نوازا۔ جب کہ آپ کی دانش مندی اور ذہانت کا کچھ کہنا ہی نہیں۔ عرب کے لوگ اپنے جھگڑوں کو ختم کرانے کے لیے آپ ہی کے پاس آتے۔ ابن سعد فرماتے ہیں: [1] الفاروق مع النبی، د: عاطف لماضۃ، ص:۵۔ آپ نے تاریخ ابن عساکر :۵۲/۲۶۹ کے حوالہ سے اسے نقل کیا ہے۔ [2] الطبقات الکبری، ابن سعد:۳/۲۹۳، اس روایت کے دیگر شواہد بھی ہیں ۔