کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 459
ان کی ضرورت بھر ان کو تنخواہیں دیں۔ [1] چنانچہ ابوعبیدہ اور معاذ رضی اللہ عنہما کے نام آپ نے خط لکھا: ’’نیک لوگوں پر نگاہ رکھو، انہیں منصب قضاء پر فائز کرو اور ان کی تنخواہیں دو۔‘‘ [2] ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے عہد فاروقی کے چند قاضیوں کی تنخواہوں کو اس طرح ذکر کیا ہے: ’’آپ نے سلمان بن ربیعہ الباہلی رضی اللہ عنہ (بصرہ) کی تنخواہ پانچ سو (۵۰۰) درہم ماہانہ اور قاضی شریح (کوفہ) کی سو (۱۰۰) درہم ماہانہ جب کہ عبداللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ (کوفہ) کی سو (۱۰۰) درہم ماہانہ مزید ۴/۱ حصہ بکری کا گوشت روزانہ مقرر کیا تھا اور مصر کے قاضیوں میں عثمان بن قیس بن ابوالعاص کی تنخواہ دو سو (۲۰۰) دینار، نیز قیس بن ابوالعاص سہمی کے لیے برائے ضیافت ومہمان نوازی دو سو (۲۰۰) دینار ماہانہ مقرر کیا۔‘‘ [3] ۳: قاضیوں کا عدالتی دائرہ کار: خلافت راشدہ کے دور میں قاضی تمام تر نزاعی معاملات میں فیصلہ کرتا تھا، خواہ اس کی کوئی بھی نوعیت ہو۔ مالی جھگڑے ہوں، خاندانی معاملات ہوں، حدود اور قصاص کے مسائل ہوں یا اور بھی اختلاف ونزاع کی کوئی شکل ہو۔ سائب بن یزید بن اخت نمر کے واقعہ کو چھوڑ کر تاریخی مراجع ومصادر میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ جس سے پتہ چلے کہ قاضی کے ذمہ مخصوص معاملات سے متعلق مخصوص دائرہ اختیار ہے، صرف سائب سے آپ نے ایک بار کہا تھا کہ ’’ایک درہم اور دو درہم کا جھگڑا لے کر لوگوں کو میرے پاس نہ آنے دو۔‘‘ [4] چنانچہ خلیفہ کو یہ اختیار ہے کہ قاضی کو صرف کسی خاص نوعیت کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے اور اس کا دائرہ اختصاص رہی ہو۔ بہرحال خلافت راشدہ کے قاضی حضرات شہری حقوق اور شخصی قوانین (پرسنل لاء) کے فیصل ہوا کرتے تھے اور قصاص وحدود کے بارے میں خلفاء اور امراء ریاست فیصلہ کرتے تھے۔ لہٰذا ان دونوں معاملات میں فیصلہ کرتے وقت خلیفہ اور گورنر کی موافقت ضروری ہوتی تھی پھر بعد کے ادوار میں حد قتل کی تنفیذ کے لیے صرف خلیفہ کی موافقت ضروری قرار پائی اور قتل کے علاوہ قصاص کے دیگر احکام ومعاملات میں گورنروں کو یہ اختیار حاصل رہا کہ اس سلسلے میں خلیفہ وقت سے منظوری لیں۔ واضح رہے کہ اس دور میں فیصلہ کے لیے کوئی خاص جگہ (کورٹ) نہیں ہوتی تھی، بلکہ قاضی اپنے گھر اور مسجد میں فیصلہ کرتا تھا، ویسے عموماً ان کی عدالتی مجالس مسجد ہی ہوا [1] النظام القضائی، مناع القطان، ص: ۷۲، ۷۳۔ [2] مغنی المحتاج: ۴/ ۳۸۲۔ النظام القضائی، ص: ۷۷۔ [3] النظام القضائی، ص: ۷۷۔