کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 451
اور صحیح آثار وروایات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کے لیے خالی زمین کو الاٹ کیا۔ [1] زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ’’عقیق‘‘ کی پوری زمین دے دی اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ’’ینبع‘‘ کی زمین دی، اس میں اتفاق سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا، تو آپ نے اسے فقراء کے حق میں صدقہ کردیا۔ علاوہ ازیں بہت ساری ضعیف روایات ہیں جن میں آپ کی طرف سے دیگر کئی صحابہ کے لیے زمین الاٹ کرنے کا ذکر ہے۔[2]  [1] الإدارۃ العسکریۃ فی عہد عمر، ص: ۳۶۷۔ [2] الطبقات الکبرٰی: ۳/ ۱۰۴۔ یہ اثر صحیح ہے۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۰۔ [3] التاریخ الصغیر، البخاری: ۱/ ۸۱۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۱۔ [4] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۱۔ یہ اثر صحیح ہے۔