کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 448
قبول کرچکے تھے … ملتا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو خمس کے مذکورہ دونوں حصوں کے مصارف کے بارے میں صحابہ میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے کہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ کے بعد ہونے والے خلیفہ کا حق ہے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ انہی کا حق ہے، جب کہ بعض لوگوں نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ خلیفہ کے بعد اس کے قرابت داروں کا حق ہے۔ لیکن بالآخر اس بات پر سب متفق ہوگئے کہ اصل مستحقین کی عدم موجودگی میں مذکورہ دونوں حصے اسلحہ اور گھوڑوں کی خریداری میں خرچ کردیے جائیں۔ [1] اور اس طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دونوں حصوں کی مخصوص آمدنی کو مسلمانوں کے مفادِ عامہ مثلاً اسلامی لشکر کی تیاری، سرحدوں کی حفاظت اور ملکی استحکام واستقرار کے اسباب وذرائع میں خرچ کیا جانے لگا۔ اور خمس اوّل میں فقراء، مساکین اور مسافروں کے جو حصے تھے وہ اپنی حالت پر اسی طرح باقی رہے، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہ ہوئی۔ [2] عہد فاروقی میں وزارت خزانہ اور اس کی تعمیر وترقی کی متعدد صورتوں کے واضح نقوش کی یہ روداد تھی جو بیان ہوئی۔ آپ عام ملکی خزانہ کے بارے میں بہت محتاط اور صاحب ورع ثابت ہوئے تھے۔ جس کی جھلک آپ کے اس قول میں دیکھی جاسکتی ہے: ’’میں اللہ کے مال سے جتنا اپنے لیے حلال سمجھتا ہوں اسے تم کو بتائے دیتا ہوں، وہ ہے: جاڑے اور گرمی کا ایک جوڑا، حج وعمرہ کرنے کے لیے ایک سواری، قریش کے ایک متوسط فرد جو نہ بہت مال دار ہو اور نہ بہت فقیر، کی طرح اپنے اہل وعیال کا خرچہ، میں بھی عام مسلمانوں کا ایک فرد ہوں، مجھے بھی ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے جو تمام مسلمانوں کو پڑتی ہے۔‘‘ [3]اور آپ کہا کرتے تھے: ’’اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں صرف اپنی ضرورت بھر خوراک کھاتا ہوں، صرف بقدر ضرورت اپنا حلہ (جوڑا) پہنا کرتا ہوں اور صرف واجبی حق لیتا ہوں۔‘‘ [4] نیز کہتے تھے: ’’میں نے اللہ کے مال میں خود کو یتیم کے مال کے قائم مقام کردیا ہے، جو مال دار ہو وہ پاک دامنی کا طالب ہے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھائے۔‘‘ [5] [1] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص:۲۱۶۔ یہ اثر صحیح ہے۔ [2] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص:۲۱۷۔ یہ اثر صحیح ہے۔ [3] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۱۷۔ یہ اثر حسن ہے۔ [4] الخراج، أبویوسف، ص: ۲۲