کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 444
ضرورت، مرکز سے ریاست کی دوری اور نزدیکی وسائل کی فراہمی اور مہنگائی و ارزانی کی رعایت کرتے ہوئے ان کے لیے تنخواہیں مقرر کیں اور وظیفہ دینے کا کوئی ایک خاص وقت متعین کیا کہ جس میں کبھی تاخیر نہ ہوئی ہو۔ [1] ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں جب میں ’’گورنروں کے شعبہ ودائرہ کار‘‘ پر بحث کروں گا تو وہاں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔  فوج کے وظائف: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فوج کے معاملات کا کافی اہتمام کیا، فوجی دیوان کو منظم کیا اور عطیات کی تقسیم میں نسب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت اور اسلام میں سبقت کو معیار بنایا۔ [2] اس طرح وظائف وعطیات سے نوازے جانے والوں میں سب سے پہلے اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی قبیلہ بنو ہاشم کے لوگ تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ اسے حکومت سے حاصل کرتے اور اپنے گھرانے والوں پر تقسیم کرتے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات حکومتی عطیات سے نوازی جاتیں، آل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ان میں سے ہر ایک کا مستقل حصہ ہوتا تھا۔ رہے ان دونوں کے علاوہ بقیہ مسلمان تو جہاد فی سبیل اللہ میں تقدیم وتاخیر کے اعتبار سے جس طرح جس کی شرکت تھی اس طرح انہیں کئی درجات میں تقسیم کردیا گیا۔ چنانچہ سب سے پہلے شرکائے بدر کو درج کیا، پھر ان لوگوں کو جو بدر کے بعد حدیبیہ تک کی تمام جنگی مہمات میں شریک رہے، پھر ان لوگوں کو جو حدیبیہ کے بعد سے دور صدیقی میں جنگ ارتداد تک شریک رہے، اور پھر ان لوگوں کو جو بالترتیب قادسیہ اور یرموک میں شریک ہوئے، اسی طرح آپ نے مجاہدین کی بیویوں اور پیدائش کے وقت سے ان کے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کردیا، نیز آپ نے عوام کے بچوں اور لاوارث اولادوں سے چشم پوشی نہیں کی، بلکہ ان کے لیے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ وظیفہ کی سب سے کم مقدار سو (۱۰۰) درہم تھی، جس میں سال بہ سال بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اضافہ ہو جاتا تھا۔ [3] اسی طرح آپ نے غلاموں کے لیے اپنی صواب دید پر ایک ہزار سے دو ہزار درہم تک وظیفہ مقرر کیا۔ [4] مجاہدین کے لیے آپ کی طرف سےمتعین کیے جانے والے مقررہ وظائف کی مقدار کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں، اور ساری روایات معمولی اختلاف کے ساتھ تقریباً مقدار کے بیان میں متفق نظر آتی ہیں۔ [5] البتہ جن وظائف کی متعینہ مقدار کا قطعی ثبوت ہے ان کی تفصیل یہ ہے کہ جویریہ، صفیہ، اور میمونہ  رضی اللہ عنہن [1] الطبقات، ابن سعد: ۳/ ۲۸۳۔ [2] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۸۴۔ [3] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۸۴۔