کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 443
پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ [1] اسلامی سلطنت کے لیے ضروری ہے کہ مستحقین زکوٰۃ والی آیت کریمہ میں جن آٹھ اصناف کی تحدید کی گئی ہے ان کو ڈھونڈے اور ان کی خبر گیری کرے، ہر شہر میں مردم شماری کے مقام، دفاتر و دواوین ہوں، پھر ان سب کی معلومات حکومت کے مرکزی دفتروں میں بھی موجود ہوں۔ عہد خلافت راشدہ میں صدقات وزکوٰۃ کا ایک مرکزی دیوان ہوتا تھا اور پھر دیگر ریاستوں میں اس کی شاخیں ہوا کرتی تھیں، لیکن یہ تنظیم اس وقت ہوئی جب مردم شماری کے دفاتر و رجسٹر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں تیار کرلیے گئے۔ [2] مستحقین زکوٰۃ کی آٹھوں قسمیں جن کا ذکر آیت کریمہ میں ہوا ہے اگر ہم دقت نظری سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی افواج کی تیاری، فقر کے خاتمہ، قرض کی ادائیگی اور ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل جیسی اہم دینی، سیاسی اور معاشرتی مصلحتوں ومفادات کو شامل ہے۔ مختصر لفظوں میں یہ کہ آیت کریمہ معاشرہ کے تمام تقاضوں اور سماج میں تمام لوگوں کے درمیان باہمی محبت، رواداری اور امن وسکون کا ماحول پیدا کرنے کے اہم اسباب کو سمیٹے ہوئے ہے۔ [3] ۲: جزیہ، خراج (لگان) اور عشور (کسٹم) کے اخراجات : جزیہ، خراج اور عشور کی آمدنی کو خلفاء، گورنران و افسران، فوجی کارندوں، اہل بیت اور مجاہدین کی آل واولاد اور دیگر اعمال خیر میں خرچ کیا جاتا تھا۔  خلیفہ کا وظیفہ: خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے مذکورہ ملکی خزانہ سے پانچ ہزار (۵۰۰۰) اور دوسری روایت کے مطابق چھ ہزار (۶۰۰۰) درہم وظیفہ مقرر کیا گیا۔  گورنروں کے وظائف: عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ہر اسلامی ریاست میں ایک دور اندیش اور صاحب بصیرت حاکم گورنر کی شکل میں مقرر کیا تھا اور اس کے ساتھ چند معاونین اور مشیروں، محصلین زکوٰۃ، قاضیوں، دستاویز تیار کرنے والوں، زکوٰۃ اور خراج وغیرہ کے افسروں کو کردیتے، جو شخص جنگی مہمات اور نماز کی ذمہ داری پر مامور ہوتا وہی امیر کہلاتا تھا، اموال کی وصولی ، زمین کے بندوبست، ٹیکس کا تخمینہ لگانے، اور مردم شماری کے لیے الگ الگ افسران تھے، جنہیں اپنے اپنے کاموں میں پوری مہارت ہوتی تھی۔ آپ نے ان میں سے ہر ایک کے عہدہ و [1] الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی، ص: ۱۳۲، ۱۳۳۔ [2] الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی، ص: ۱۳۴۔