کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 442
بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے تالیف قلب کے طور پر اموالِ زکوٰۃ کے مستحقین کے بارے میں وارد شدہ نص قرآنی سے متعلق جمود کا موقف اختیار نہیں کیا، بلکہ نص قرآنی کی گہرائی میں اتر کر آپ نے سمجھ لیا کہ اس حصہ کا مقصد اشراف عرب کو اسلام میں داخل کرکے اسلام کو قوی اور غالب بنانا ہے اور ان میں جو لوگ راضی برضا خود بخود اسلام لے آئیں انہیں اسلام پر قائم رکھنا ہے۔ گویا آپ نے نص قرآنی کے ظاہری الفاظ سے قطع نظر اس کی علت پر غور کیا اور چونکہ آپ کے عہد خلافت میں اللہ نے اسلام کو مضبوط اور غالب کردیا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت ہوچکی تھی لہٰذا آپ نے سوچا کہ اب تالیف قلب کی خاطر دیا جانے والا مال لینے والوں کے حق میں باعث ذلت ورسوائی ہے، اور جس علت کی بنا پر اللہ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا تھا اب وہ علت ختم ہوچکی ہے۔ اسی نظریہ کے تحت آپ نے ان کا حصہ موقوف کردیا، اور اسی مبنی بر حکمت فاروقی اقدام کے پیش نظر ہم یہ کہتے ہیں کہ تالیف قلب کے نام سے اموالِ زکوٰۃ کے مصارف پر پابندی لگا کر عمر رضی اللہ عنہ نے کسی قرآنی نص کو معطل نہیں کیا، کیونکہ کسی شرعی حکم کو معطل کرنا اسے منسوخ کرنے کے مترادف ہے اور منسوخ کرنے کا حق صرف صاحب شریعت (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پہنچتا ہے، پس وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شرعی حکم کے لیے نسخ ہے ہی نہیں۔ [1] عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہِ بصیرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جن احوال و اسباب کی رعایت پر شرعی نصوص قائم ہیں ان کی تبدیلی اور تغیر پر آپ کی نگاہ ہوتی تھی اور اس کا خیال رکھتے تھے، صرف ظاہری نص پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے جیسے کہ اس سے پہلے بات گزر چکی ہے۔ [2] اموالِ زکوٰۃ کے مصارف واخراجات میں یہ چیزیں بھی شامل تھیں کہ اسے گردن آزاد کرانے، قرض داروں، مسافروں اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کیا جاتا تھا، چنانچہ قرآنِ کریم نے مسافروں پر توجہ دی، اموال زکوٰۃ، فے اور غنیمت کے خمس میں ان کا حصہ مقرر کیا، اجنبی اور زادِ راہ ختم ہوجانے والے یا لٹ جانے والے مسافروں پر ایسی خاص توجہ فرمائی کہ دنیا کے کسی نظام اور شریعت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے اس خصوصی عنایت کی عملی مثالیں فراہم کرتے ہیں اور اسی اسوۂ حسنہ کو زندہ رکھتے ہوئے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں ’’دار الدقیق‘‘ کے نام سے ایک عمارت بنوائی، آٹا، ستو، کھجور، کشمش اور دیگر ضروریات سفر جن کی ایک مسافر کو جس کا زادِ راہ ختم ہوگیا ہو اور آنے والے مہمان کو ضرورت ہوتی ہے، یہ ساری چیزیں اس میں رکھتے تھے، مکہ ومدینہ کی درمیانی گزرگاہوں پر آپ نے کچھ سرائے خانے بنوائے جو لٹے ہوئے یا زادِ راہ ختم ہوجانے والے مسافروں کے لیے معاون ثابت ہوسکیں اور چشمے سے دوسرے چشمے تک ان کو [1] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۷۳۔ [2] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص:۲۰۲۔ [3] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۷۵۔ [4] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۷۷، ۱۷۸۔ [5] الأبعاد السیاسیۃ لمفہوم الأمن فی الإسلام، ص:۳۰۶۔