کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 441
سارے امور و معاملات ہوتے ہیں جن کے لیے ماہرین ومتخصصین اور ان کے معاون افراد کی ایک جماعت (ٹیم) کی ضرورت پڑتی ہے۔ [1] تالیف قلب بھی زکوٰۃ کی ایک مد ہے کچھ لوگوں کو تالیف قلب کے لیے زکوٰۃ دی جاتی تھی، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اموالِ زکوٰۃ سے ان کا حصہ ساقط کردیا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے دورِ خلافت میں اسلام مضبوط ہوچکا تھا، اور مستحقین زکوٰۃ کی آٹھوں قسموں میں سے اس قسم (تالیف قلب) کا حقیقی معنوں میں کوئی مستحق نہ تھا۔[2]البتہ موجودہ دور میں تالیف قلب کی خاطر اموالِ زکوٰۃ کے مستحقین قدیم زمانے کی اصلی شکل میں یا دوسری شکل میں موجود ہیں اور ان میں دلجوئی کی خاطر دیے جانے والے اموالِ زکوٰۃ کی شرائط مکمل طور سے پائی جاتی ہیں۔ [3] بعض اسلام معارض اور جمود وتعطل کے نظریات کو فروغ دینے والے ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے اس واقعہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد حکومت میں تالیف قلب کی خاطر دیے جانے والے اموالِ زکوٰۃ کو اس کے مستحقین سے ساقط کردیا تھا اور نص قرآنی سے ثابت شدہ ایک شرعی حکم کے نفاذ پر پابندی لگا دی تھی، حالانکہ یہ دعویٰ قطعاً باطل اور حقیقت حال سے بہت دور ہے۔ دراصل عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عظیم حکمت ومصلحت کی وجہ سے یہ اقدام کیا تھا، وہ حکمت یہ تھی کہ اب اسلام مضبوط اور غالب ہوچکا ہے، جب کہ اپنے ابتدائی مراحل میں وہ بہت ہی کمزور اور کسمپرسی کے عالم میں تھا۔ لہٰذا اس غلبہ وقوت اور تائید ونصرتِ الٰہی کے بعد اب نہ اِن کو نہ اُن کو، کسی کو بھی دل جوئی وتالیف قلب کی ضرورت نہیں ہے۔ [4] اور عمر رضی اللہ عنہ کی اس اجتہادی کارروائی پر صحابہ نے بھی اتفاق رائے ظاہر کیا۔ واضح رہے کہ صحابہ نے کسی زور اور دباؤ کے نتیجہ میں یہ اتفاق رائے نہیں ظاہر کیا تھا، ’’تالیف قلب‘‘ کی خاطر اموال زکوٰۃ کے مستحقین کے حقوق پر پابندی عائد کرنے کے اسباب جواز موجود تھے۔ انہوں نے بھی سوچا کہ شان وشوکت کے ساتھ اسلام کی پیش رفت کے مدنظر اب ان چند افراد کی کوئی بہت بڑی حیثیت اور کوئی بہت بڑا وزن نہیں ہے۔ اب تو بہت ساری اقوام اسلام لاچکی ہیں اور جس کسی خدشہ کے پیش نظر تالیف قلب کے لیے چند لوگوں کو اموالِ زکوٰۃ دیا جاتا تھا اب وہ خدشہ اور خطرہ بھی باقی نہیں رہا۔ بلکہ ان کے متعلق اب اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں ان میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا رجحان نہ پیدا ہوجائے۔ مزید برآں یہ ان کا کوئی ایسا واجب حق نہ تھا کہ نسل در نسل وہ اسے وراثت میں پاتے ہی رہیں۔ [5] [1] النظام الإسلامی المقارن، ص:۱۱۲۔ سیاسۃ المال فی الإسلام ، ص: ۱۷۱۔ [2] الأموال، أبوعبید: ۴/ ۶۷۶۔ سیاسۃ المال فی الإسلام ، ص: ۱۷۱۔ [3] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۷۲۔