کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 440
۱: زکوٰۃ کے اخراجات: اللہ تعالیٰ نے مستحقین زکوٰۃ کو آٹھ (۸) قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ فرمایا: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبۃ:۶۰) ’’صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنا مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔‘‘ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فقراء ومساکین اموال زکوٰۃ سے اپنا حق پاتے تھے، اور یہ اموال ان کی فقیری ومسکینی، غربت و افلاس کے ازالے، اور انہیں خوشحالی ومال داری کے قریب تر کرنے کا سبب ہوا کرتے تھے۔[1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ جب اموالِ زکوٰۃ سے ان کے مستحقین کو نوازتے تو دینے والوں سے کہا کرتے تھے: جب تم انہیں دو تو مال دار کردو۔ [2] یہ تھی فاروقی سیاست کی حکمت ودانائی کہ فقراء ومساکین کو ان کی ضرورت بھر تو دیا ہی جائے، مزید برآں وقتی ضرورت کی رعایت کرتے ہوئے اسے مقررہ حق سے زیادہ دیا جائے۔ البتہ وہ لوگ جو دائمی طور پر عاجز ہوں، مثلاً کسی دائمی مرض میں مبتلا ہوں تو درحقیقت اموال زکوٰۃ اس طرح کے لوگوں کے لیے دائمی اور منظم تعاون ہے، یہاں تک کہ فقر غنا میں تبدیل ہوجائے اور عجز قدرت میں تبدیل ہوجائے اور بے کاری کسب وعمل سے بدل جائے۔ آپ کی یہ سیاست جس طرح مسلمانوں کے لیے تھی اسی طرح جزیہ معاف کردینے کے بعد محتاج ونادار اہل کتاب کے لیے بھی تھی۔ [3] فقراء ومساکین کی طرح اموال زکوٰۃ کے مستحق وہ لوگ بھی ہیں جو ان کی وصولی پر مامور ہوتے ہیں۔ ان کے ذمہ مختلف ذمہ داریاں اور متفرق کام ہوتے ہیں اور سب کا تعلق اموال زکوٰۃ کی تنظیم وتنسیق سے ہوتا ہے۔ مثلاً انہیں معلوم کرنا ہوتا ہے کہ کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ کس کس مال پر واجب ہے؟ کتنی واجب ہے؟ کون ان کا مستحق ہے؟ ان کی تعداد کتنی ہے؟ مستحقین کی کیا اور کتنی ضرورتیں ہیں؟ علاوہ ازیں اس سے متعلق بہت [1] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۶۰۔ [2] صبح الاعشیٰ فی قوانین الإنشاء، قلقشندی: ۱/ ۸۹۔ [3] فقہ الزکاۃ: ۱/ ۳۱۸۔ سیاسۃ المال، ص: ۱۶۰۔ [4] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۶۹۔