کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 439
تمام مسلمان مردوں وعورتوں، بچوں اور غلاموں کے لیے مختلف مقدار میں ان کی ولادت کے وقت ہی سے وظیفہ مقرر کیا۔ [1] دفاتر و دیوان کے اس نظام کو نافذ کرکے عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واضح کردیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ میرے نزدیک کس قدر اہم ہے اور اسی سبب سے مجاہدین کے حقوق کی حفاظت کی خاطر آپ نے ان کے تمام تر معاملات پر خصوصی توجہ دی اور قریش کے ماہرین انساب اور باکمال وعالی مرتبت شخصیتوں کی نگرانی میں مدینہ منورہ میں عربی زبان میں ’’فوجی دیوان‘‘ تیار کرایا۔ پھر اسلامی سلطنت کی دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرز پر دواوین ودفاتر تیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہاں انہی مفتوحہ ریاستوں کی زبان میں مردم شماری کے رجسٹر تیار کیے گئے، انہیں عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید کے دور حکومت میں عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ دواوین ودفاتر کے ذریعہ سے مردم شماری کا کام پورا ہوجانے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ایک سال تک جمع کرتے رہتے اور پھر سال کے آخر میں اسے لوگوں میں حسب دفاتر تقسیم کرتے۔ ایک سال تک مال جمع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یکجائی ڈھنگ سے اس عمل کی انجام دہی کو آپ باعث خیر وبرکت سمجھتے تھے۔ اس مقام پر ایک سال تک مال روکنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے کچھ محافظ ونگران بھی رہے ہوں، چنانچہ تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ عہد فاروقی میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بیت المال کے محافظ و نگران تھے۔[2] اور ابوعبید نے اپنی سند سے عبدالقاری … جو قبیلہ قارہ سے تھے … کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بیت المال کی نگرانی پر مامور تھا۔ [3] عہد فاروقی کے ملکی اخراجات بیت المال سے خرچ ہونے والے ملکی اخراجات کی تین قسمیں ہیں: ۱: زکوٰۃ اور اس سے متعلقہ امور کے اخراجات۔ ۲: جزیہ، خراج (لگان) عشور (کسٹم محصول) اور ان سے متعلقہ امور کے اخراجات۔ ۳: اموالِ غنیمت اور ان سے متعلقہ امور کے اخراجات۔ قرآنِ مجید، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں مذکورہ تمام امور کے اخراجات کا بیان وارد ہے۔ [4] [1] جامع الأصول: ۲/ ۷۱۔ أخبار عمر، ص:۹۴۔ [2] فتوح البلدان، ص:۴۳۶۔ الأحکام السلطانیۃ، ص: ۲۲۷۔