کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 429
اسلام قبول کرنے لگے اور اتنے شان دار انداز سے اسلام کی نشر واشاعت ہوئی کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مفتوحہ اقوام نے اسلامی عدل کو بخوبی محسوس کیا، ان کے سامنے حق واضح ہوگیا اور اپنے ساتھ مسلمانوں کے معاملات کو دیکھ کر اپنے انسانی مقام کو پہچان لیا۔ [1] سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملکی خزانے کو منظم کرنا: اسلامی سلطنت کا دائرہ چاروں طرف وسیع ہوگیا، اور پہلے زمانے کی ملکی سرحدوں سے متجاوز ہو کر دور دُور تک اسلامی سرحدوں کے ناموں کا اطلاق ہونے لگا، ان سرحدوں میں سب سے اہم فرات کی سرحد مانی جاتی تھی، اس کی طولانی ایسی اہم سیاسی وجغرافیائی خطوط (لائن) سے گزرتی تھی جو اسلامی سلطنت اور رومن حکومت کی سرحدوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ہر اسلامی شہر سے اس کی ضرورت کی مقدار میں فوجی گھوڑوں کو تیار کیا، اس طرح ہر شہر میں ہمہ وقت تیار رہنے والے فوجی شہسواروں کی عددی قوت تیس (۳۰) ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ یاد رہے کہ یہ تعداد پیادہ پا فوج اور دیگر عسکری طاقتوں مثلاً پیادہ اور شتر بانوں کے علاوہ ہے۔ آپ نے ان شہسواروں کو منظم افواج کی شکل میں صرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے خاص ریزرو ( Reserve ) کیا تھا، آپ نے ملکی خزانے سے ان کی تنخواہیں مقرر کیں اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت کے علاوہ دیگر تمام مشغولیات سے انہیں روک دیا۔ گویا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے خراج کو عسکری طاقتوں کی مضبوطی اور اس کی افواج کی تنخواہوں کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بنا دیا۔[2] عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خراج کو ملکی خزانہ کی اہم مالی آمدنی قرار دیا اور اس کے لیے اصول وضوابط وضع کیے۔ اس ضابطہ بندی کا مقصد یہ تھا کہ امت کے مفاد عامہ اور اس کی ملکی سرحدوں اور شاہراہوں کی حفاظت واستحکام میں بیت المال کا اہم کردار ہو اور یہ اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک کہ جنگ کے ذریعہ سے مفتوحہ زمین کو ان کے مالکان کے قبضے میں نہ رکھا جاتا، تاکہ زمین کی پیداوار کی ایک مخصوص مقدار بیت المال میں آتی رہے۔ زمین کو ان کی ملکیت میں سونپنے سے ایک فائدہ یہ متوقع تھا کہ ان کے اندر محنت اور زمین سے سرمایہ کاری کا جذبہ پروان چڑھے گا، اور مسلمانوں کی آمد سے پہلے اپنے حکام کو ٹیکس ادا کرنے میں وہ جس قدر اپنی جان کھپاتے تھے اس کا اسلا می عدل ورواداری سے موازنہ کریں گے۔ [3] ۴۔ عشور (کسٹم آمدنی): عشور سے مراد وہ آمدنی ہے جسے اسلامی سلطنت سے گزرنے والی تجارت پر عائد کیا جاتا ہے، خواہ اس [1] الدور السیاسی، الصفوۃ، ص: ۱۸۵۔ [2] الدعوۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب، حنسی غیطاس، ص: ۱۳۰۔ [3] الدعوۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب، حنسی غیطاس، ص: ۱۳۱۔