کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 424
فاروقی عہد خلافت میں ’’خراج‘‘ کی تنفیذ کیسے ہوئی؟ جب ممتاز ومشاہیر اور اہل حل وعقد صحابہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ مفتوحہ اراضی کو ان کے مالکان کے قبضہ میں باقی رکھا جائے اور منقولہ اموال غنیمت فاتح مجاہدین میں تقسیم کردیے جائیں تو آپ نے (فن مساحت) کی دو ماہر وعظیم شخصیتوں یعنی عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو سواد عراق کی مساحت کی پیمائش وبندوبست کے لیے وہاں بھیجا، اور جب آپ نے ان کو اس مہم پر روانہ کیا تو انہیں اپنی گراں قدر نصیحتوں اور گہری بصیرت پر مبنی توجیہات ورہنمائیوں سے نوازا۔ انہیں حکم دیا کہ پیمائش و بندوبست کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کی مالی حیثیت، زمین کی شادابی وخشکی، درخت ودیگر نباتات کی نوعیت اور رعایا کے ساتھ نرم برتاؤ کو خاص طور سے دھیان میں رکھیں، اور جس مقدار کی ادائیگی مالکان زمین کے لیے ناممکن ہو وہ خراج ان پر مقرر نہ کریں، بلکہ خراج کی وصولی کے بعد ان کے پاس اتنا چھوڑیں جس سے وہ اپنی ضروریات اور مشکل حالات کو درست کرسکیں۔ چونکہ عمر رضی اللہ عنہ عدل کی بنیادوں پر اپنی قرار داد نافذ کرنا چاہتے تھے اس لیے آپ نے مناسب سمجھا کہ باشندگان عراق کی اسلامی فتح سے پہلے کی حالت معلوم کریں۔ چنانچہ آپ نے عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر سواد عراق کے ممتاز مالکان کا ایک وفد آپ کے پاس روانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے حکم کی تعمیل میں سواد عراق کے مالکان کا وفد آپ کی خدمت میں روانہ کیا۔ آپ نے وفد سے پوچھا کہ آپ لوگ عجمی حکام کو اپنی زمین کا کتنا لگان دیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستائیس (۲۷) درہم۔ آپ نے فرمایا: لیکن میں تم سے اتنا لینا پسند نہیں کرتا۔ [1] آپ کا یہ موقف اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی فتوحات مفتوحہ اقوام کے لیے عدل وانصاف کا پیغام لے کر آئیں۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ زمین کی پیمائش وملکیت کے اعتبار سے اس کے مالکان پر خراج مقرر کرنا ان کے حق میں زیادہ مفید اور ادائیگی میں زیادہ بہتر وآسان ہے۔ نیز اس میں ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہیں ہے۔ چنانچہ عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، اور سواد عراق کا رقبہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ (۰۰,۰۰۰,۶۰,۳) مربع جریب ٹھہرا۔ [2] ان دونوں نے پیداوار کے حساب سے انگور کی کھیتی پر فی جریب دس درہم، کھجور پر فی جریب آٹھ، گنا پر فی جریب چھ، گیہوں پر فی جریب چار اور جو پر فی جریب دو درہم سالانہ خراج (لگان) مقرر کیا [3] اور امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس تفصیل سے باخبر [1] الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی ص:۱۳۱۔ [2] الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی ص:۱۳۱، ۱۳۲۔