کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 417
ابوعبید نے روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ جابیہ میں تشریف لائے اور مفتوحہ زمین کو فاتح مجاہدین میں تقسیم کرنا چاہا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تب تو وہی ہوگا جسے آپ پسند نہیں کرتے۔ اگر آپ نے اسے تقسیم کردیا تو زمین کا بہت سا منافع لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا، اور لوگ ادھر ادھر منتشر ہوجائیں گے، پھر تو وہ صرف ایک مرد یا ایک عورت کی ملکیت ہوجائے گی اور بعد میں جو لوگ مسلمان بن کر ان کے قائم مقام ہوں گے وہ کچھ نہیں پائیں گے۔ لہٰذا ایسی تدبیر اختیار کیجیے جو موجودہ اور بعد میں آنے والوں کے لیے بھی مفید ہو۔ [1] درحقیقت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک عظیم مقصد سے آگاہ کیا اور آپ نے قرآنِ کریم کی آیات میں مسئلہ کی تلاش شروع کردی، اور تلاوت کے وقت ہر کلمہ کا انتہائی دقت وباریک بینی سے مطالعہ کرنے لگے، یہاں تک کہ سورۂ حشر کی تقسیم فے والی آیت پر آکر ٹھہر گئے اور پھر یہ مسئلہ واضح ہوگیا کہ یہ آیت موجودہ دور اور بعد کے مسلمانوں کے لیے بھی مالِ فے کو جائز قرار دیتی ہے۔ بالآخر آپ نے فیصلہ کرلیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر عمل کریں گے اور جب یہ خبر لوگوں کے درمیان عام ہوئی تو آپ اور بعض دیگر صحابہ کرامکے درمیان اختلاف واقع ہوگیا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اور آپ کی تائید کرنے والے لوگ مفتوحہ زمین کو تقسیم کرنے کے قائل نہ تھے جب کہ بلال بن رباح اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم جیسے دیگر صحابہ اس کی تقسیم کے قائل تھے، جیسا کہ مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جاتا ہے، اور جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں تقسیم کیا تھا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ تقسیم سے انکاری ہی رہے اور سورۂ حشر میں خمس والی اس آیت کی تلاوت شروع فرمائی: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللّٰهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(الحشر:۶) ’’اور جو ( مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایا تو تم نے اس پر نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ اور لیکن اللہ اپنے رسولوں کو مسلط کر دیتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔‘‘ اور پھر بنو نضیر کے واقعہ کا حوالہ دیا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَللّٰهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ الحشر:۷) ’’جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے [1] الخراج، أبویوسف، ص: ۲۴، ۲۵۔ اقتصادیات الحرب، ص: ۲۱۵ [2] الاستخراج لأحکام الخراج، ص: ۴۰۔ اقتصادیات الحرب، ص: ۲۱۵ [3] سیاسۃ المال فی الإسلام، ص: ۱۰۳