کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 400
میں سکونت اختیار کرنے کی حالت میں وہاں سے نکلنا جائز ہے یا نہیں۔ چنانچہ بعض علماء نے نکلنا جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اللہ کی قضاء وقدر سے راہ فرار اور یہ عقیدہ نہ ہو کہ یہاں سے بھاگ نکلنے سے موت سے محفوظ ہوجائے گا۔ البتہ اگر کوئی کسی اضطراری ضرورت کے لیے وہاں سے باہر جاتا ہے، تو اس کے لیے وہاں سے نکلنا جائز ہے۔ اسی طرح دوا اور علاج کے لیے نکلنا بھی جائز ہے۔ پس اگر طاعون زدہ علاقے سے منتقل ہو کر کسی صحت افزا اور بہترین آب وہوا والے علاقے میں چلا جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے اور یہی مطلوب ہے۔ رہا مسئلہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے عدم خروج اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے معذرت خواہی کا، تو دراصل اس کے کچھ صحتِ جسمانی، معاشرتی، سیاسی اور قیادت وحکمرانی سے متعلقہ اسباب تھے، جنہیں دین اسلام منظم شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور ایسی ہی منظم زندگی امانت دار قیادت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہے، پس ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت کا کیا کہنا! وہ تو اس امت کے امین تھے۔ چنانچہ آپ نے طاعون زدہ زمین میں اپنی ثابت قدمی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: میں مسلمانوں کے فوجی لشکر میں ہوں ان کو چھوڑ کر جانے کو میری طبیعت تیار نہیں۔ بعض علماء نے طاعون سے راہِ فرار اختیار کرکے طاعون زدہ زمین سے نکلنے کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے تفصیلی گفتگو کی ہے اور اچھی بات کہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر سارے لوگ ایک ساتھ طاعون زدہ علاقے سے نکلنے لگیں تو جو عاجز ہے … یعنی طاعون میں مبتلا ہے … اور جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان سب کی مصلحتیں ومفادات رائیگاں ہوجائیں گے، اس لیے کہ زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں ان کا کوئی محافظ ومددگار نہیں ہے۔ اسی طرح اگر ایسی زمین سے نکل جانے کی عام اجازت ہوجائے اور طاقتور و مال دار لوگ اس بستی سے نکل جائیں تو کمزور ونادار افراد جو نکل نہ سکیں ان کی لا محالہ دل شکنی ہوگی اور انہیں ان کی ذلت ورسوائی کا احساس دلانا ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ طاعون زدہ علاقے میں باقی رہ جانا رخصت ہے، اور نکل جانا بھی رخصت ہے۔ جو شخص طاعون میں مبتلا ہوجائے اس کے باہر نکل جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس راستے سے اپنے مرض کو دیگر تندرست افراد تک پہنچا دے گا۔ [1] اور جو اس میں مبتلا نہ ہوا ہو اسے علاج ودوا کی غرض سے اس بستی سے باہر نکلنا جائز ہے بشرطیکہ پوری بستی کے لوگ نہ نکلیں، بلکہ وہاں کچھ لوگ ضرور رہیں جو مریضوں کی خبر گیری اور دوا علاج کریں۔ [2]  [1] أشہر المشاہیر: ۲/ ۳۶۱ [2] صحیح مسلم ، حدیث نمبر: ۲۲۱۹