کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 396
صرف وہی ہے جو تم نے کھا پی لیا اور پہن لیا اور خرچ کرلیا اور گزر گئے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بچے گا وہ تو تمہارے ورثاء کا ہے۔ جب آپ کی تکلیف میں شدت آگئی تو آپ کہنے لگے: ’’اے اللہ میری جان جلدی سے نکال لے۔ [1]میں یقین رکھتا ہوں کہ تجھ سے میری محبت کا تجھے بخوبی علم ہے۔ [2] جب موت آپہنچی تو آپ نے کہا: موت کو مبارکباد ہو، ایسے زیارت کرنے والے کو خوش آمدید ہے جو میرے فاقہ کی حالت میں یہاں آیا، جو اس سے شرمائے گا وہ کامیاب نہ ہوگا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں دنیا میں نہریں جاری کرنے اور درخت لگانے کے لیے زندہ رہنا پسند نہیں کرتا تھا بلکہ اس لیے زندگی کی بقا چاہتا تھا تاکہ طویل رات میں عبادت کی مشقتیں برداشت کرنے، دن کی لمبی گھڑیاں اطاعت وعبادت میں گزارنے، سخت گرمی کے موسم میں عبادت کے ذریعہ سے گرمی کی حدت کو کم کرنے اور ذکر کے حلقوں میں شریک ہو کر علماء کے گروہ میں شرکت کرنے کا خود کو پابند رکھوں۔‘‘ [3]جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت آپ کی عمر اڑتیس (۳۸) برس تھی۔ [4] آپ کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین ہوئے، انہوں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ کو لحد میں رکھا، آپ کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی قبر میں داخل ہوئے، اور جب عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ قبر سے باہر آئے تو کہا: اے معاذ! اللہ تم پر رحم فرمائے، ہمارے علم کے مطابق تم مسلمانوں کے خیر خواہ اور ان کے چنیدہ لوگوں میں سے تھے، تم جاہلوں کو ادب سکھانے والے، فاجروں پر سخت اور مومنوں کے لیے رحم دل تھے۔ [5] ابوعبیدہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کی وفات کے بعد اسلامی لشکر کی قیادت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ذمہ آگئی، آپ نے اس موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! طاعون کی یہ بیماری جب واقع ہوتی ہے تو آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے، لہٰذا تم یہاں سے نکل کر پہاڑوں میں پناہ لے لو، پھر آپ خود وہاں سے نکل گئے اور دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے اور پھر مختلف مقامات پر منتشر ہوگئے اور اللہ نے ان سے اس مصیبت کو دور کردیا۔ [6] عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھا: ’’ سلام علیک، بے شک میں آپ کے بارے میں اس اللہ جل شانہ کا شکر گزار ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ اما بعد! معلوم ہو کہ معاذ بن جبل رحمہ اللہ وفات پاچکے ہیں اور مسلمانوں میں موت تیزی سے پھیل چکی ہے، لوگوں نے صحرا کی طرف بھاگ نکلنے کی مجھ سے [1] الاکتفاء: ۳/ ۳۰۹ [2] الاکتفاء: ۳/ ۳۱۰ [3] تاریخ الطبری: ۵/ ۳۶