کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 392
نہیں کیا۔ [1] ۲: ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات: جب طاعون کی وبا پھیل گئی اور کو اس کی خبر عمر رضی اللہ عنہ پہنچی تو آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط تحریر کیا، مقصد یہ تھا کہ ان کو وہاں سے نکال لیں، خط کا مضمون یہ تھا: ’’ سَلَامٌ عَلَیْکَ، اما بعد: مجھے تم سے ایک اہم ضرورت آپڑی ہے جس میں براہِ راست میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جب تم اس خط کو پڑھو تو اس سے پہلے کہ خط اپنے ہاتھ میں رکھو میری طرف روانہ ہوجاؤ۔‘‘ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خط کے مضمون سے اندازہ کرلیا کہ مجھ پر شفقت ومہربانی کے پیش نظر امیر المومنین کا مقصد مجھے اس وبا سے بچانا ہے۔ چنانچہ آپ نے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ امیر المومنین کی مغفرت فرمائے!‘‘ اور پھر خط کا جواب یوں تحریر کیا: ’’اے امیر المومنین! آپ کو مجھ سے جو ضرورت ہے میں نے اسے بخوبی سمجھ لیا، میں مسلمانوں کے فوجی لشکر میں ہوں، ان کو چھوڑ کر جانے کو میری طبیعت تیار نہیں، میں ان کی جدائی کا ارادہ نہیں رکھتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے بارے میں اپنا حکم وفیصلہ نافذ کردے۔ لہٰذا اے امیر المومنین مجھے اپنے عزم وارادے سے آزاد کردیجیے اور مجھے اپنی فوج میں چھوڑ دیجیے۔‘‘ جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب نامہ پڑھا تو رونے لگے۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین کیا ابوعبیدہ کی وفات ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: گویا یہی سمجھو۔ راوی کابیان ہے کہ پھر آپ نے ابوعبیدہ کے نام خط لکھا: ’’سَلَامٌ عَلَیْکَ، اما بعد: تم نے لوگوں کو پست اور گہری زمین میں اتارا ہے، انہیں لے کر بلند اور ستھری زمین میں جاؤ۔‘‘ چناں چہ جب امیر المومنین کا یہ خط ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابوموسیٰ میرے پاس امیر المومنین کا خط آیا ہے، تم اسے دیکھ رہے ہو، لہٰذا جاؤ، اور لوگوں کے لیے بہترین رہائش گاہ تلاش کرو اور پھر ان کو لے کر میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس گئے وہاں دیکھا کہ ان کی بیوی بھی طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوچکی ہیں۔ یہ دیکھ کر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا، پھر ابوعبیدہ نے اپنا گھوڑا تیار کرنے کا حکم دیا اور جونہی اپنا پیر گھوڑے کے پالان پر رکھا طاعون نے ان کو آدبوچا، پھر آپ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں بھی اس میں مبتلا ہوگیا ہوں۔[2] عروہ سے روایت ہے کہ طاعون عمواس کی تکلیف سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گھرانے کے لوگ محفوظ تھے، لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! آل ابوعبیدہ میں تیرا حق ہے، پھر ان کو ایک پھنسی نکلی، آپ اس کو دیکھنے [1] فتح الباری: ۱۰/ ۱۸۰ [2] أبوعبیدہ عامر بن الجراح، محمد شُرّاب، ص: ۲۲۰ [3] الخلفاء الراشدون، النجار، ص: ۲۲۴ [4] الخلفاء الراشدون، النجار، ص: ۲۲۲، ۲۲۳