کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 390
پہنچ گئے کہ دونوں حالتوں میں بھوک ہی وہ اضطراری سبب ہے جو حرام کو حلال کررہی ہے، جیسے کہ حاطب کے غلاموں کے واقعہ میں آپ نے اس بات کی طرف یہ کہہ کر صاف اشارہ کیا کہ تم ان کو کام میں لاتے ہو، اور انہیں بھوکا رکھتے ہو، لہٰذا اگر ان میں سے کسی نے اپنے لیے حرام چیز کو کھا لیا تو وہ اس کے لیے حلال ہوگا۔ [1] ۶: عام الرمادہ میں ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر کا جواز: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ میں لوگوں کے لیے زکوٰۃ کی واجبی و فوری ادائیگی موقوف کردی، اور جب قحط سالی ختم ہوئی، زمین ہری بھری ہوگئی تب آپ نے عام الرمادہ کی زکوٰۃ لوگوں سے وصول کی، گویا آپ نے اسے مال داروں پر قرض شمار کیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ ضرورت مند افراد کی ضرورت پوری ہوجائے اور ایسے وقت میں ایک محفوظ سرمایہ بنے، جب کہ بیت المال کا خزانہ خرچ کرنے کے بعد خالی ہوچکا ہوگا۔ [2] چنانچہ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قحط سالی کے موقع پر صدقات کی وصولی کو مؤخر کردیا، اور عاملین صدقات کو نہیں بھیجا، لیکن جب دوسرا سال آیا اور اللہ نے قحط سالی ختم کر دی تو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں حکم دیا کہ جائیں اور مالداروں سے دو سال کی زکوٰۃ وصول کریں، ایک سال کی زکوٰۃ کو ضرورت مندوں میں تقسیم کردیں اور ایک سال کی زکوٰۃ لے کر میرے پاس آئیں۔ [3] طاعون : ۱۸ھ میں ایک بھیانک وہولناک حادثہ پیش آیا، [4] تاریخی مصادر ومراجع میں اسے ’’طاعون عمواس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عمواس ایک چھوٹی سی بستی ہے، جو ’’بیت المقدس‘‘ اور ’’رملہ‘‘ کے درمیان واقع ہے، یہیں سب سے پہلے طاعون کی وبا پھوٹی تھی اور پھر پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اس لیے اس بستی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے طاعون عمواس کہا جانے لگا۔ [5] میرے محدود علم کے مطابق اس بیماری کا سب سے جامع تعارف جنہوں نے پیش کیا ہے وہ ابن حجر رحمہ اللہ ہیں۔ انہوں نے طاعون کے بارے میں متعدد اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ’’اہل لغت، فقہاء اور اطباء کے ذریعہ سے اس کی جو تعریف وحقیقت مجھ تک پہنچی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی عضو میں خون کے یکجا جم جانے یا خون میں ہیجان وتیزی ہوجانے کی وجہ سے اس عضو میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہوجانے اور اسے بے کار [1] الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ، د/ یحیٰی الیحیٰی، ص: ۳۰۲ [2] الخلافۃ والخلفاء الراشدون، سالم البھنساوی، ص: ۱۶۵ [3] مصنف عبد الرزاق: ۱۰/ ۲۴۲ [4] المغنی، ابن قدامۃ: ۸/ ۲۷۸