کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 387
قربت چاہتے ہیں لہٰذا تو ہمیں سیراب کردے۔ [1] اور روایت کیا گیا ہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ میں استسقاء کے موقع پر اپنی دعا کے آخر میں کہا: اے اللہ! میں عاجز و درماندہ ہوگیا، اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ سب انسانوں کے لیے کافی ہے، پھر آپ نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ہم تیرے نبی کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی ماندہ اجداد [2] واکابرین صحابہ کی دعاؤں کے ذریعہ سے تیری قربت چاہتے ہیں، کیونکہ تیری بات حق ہے اور تو کہتا ہے: وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا (الکہف:۸۲) ’’اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا۔‘‘ چوں کہ تو نے ان دونوں کے باپ کے نیک ہونے کی وجہ سے اس دیوار کی حفاظت کی، لہٰذا اے اللہ اپنے نبی کی نیکی کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی دعا کی حفاظت کر! تو عباس رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے: اے اللہ! کوئی بھی بلا ومصیبت گناہوں کی ہی وجہ سے آتی ہے، اور توبہ کے ذریعہ وہ ختم ہوتی ہے، تیرے نبی سے میرے تعلق کی بنیاد پر میری دعا کے ذریعہ سے پوری قوم تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ گناہوں سے رنگے ہوئے تیری طرف بلند ہیں، ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش سے سیراب کردے، اے ارحم الراحمین تو ہمیں مایوس ونامراد لوگوں میں سے نہ بنا، اے اللہ تو ہی نگہبان ہے گم ہونے والے کو تو رائیگاں نہ کر، بے سہاروں کو ہلاکت کی وادی میں نہ چھوڑ، چھوٹے کمزور اور دبلے ہوتے جا رہے ہیں، اور عمر دراز لوگ موت سے گھبرانے لگے ہیں، تجھ ہی سے میری شکایت ہے، تو خفیہ اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ اے اللہ لوگوں کو بارش عطا فرما، رحمت کی بارش، اس سے پہلے کہ وہ مایوس ہوجائیں اور ہلاک وبرباد ہوجائیں کیونکہ تیری رحمت سے کافر قوم ہی محروم ومایوس ہوتی ہے۔ [3] دعا کے بعد ایک خوش منظر بادل نمودار ہوا، لوگوں نے کہا: دیکھ رہے ہو، پھر وہ اکٹھا ہوا اور ہواؤں کے ساتھ چلنے لگا، پھر ٹھہر گیا اور موسلا دھار بارش ہوئی، اللہ کی قسم! انہوں نے ابھی جگہ نہ چھوڑی تھی کہ دیوار کے سہارے اپنی ازار کے پائینچوں کو اٹھائے ہوئے گھروں کو واپس ہوئے، اور لوگوں نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہنا شروع کیا کہ تمہیں مبارک بادی ہے اے حرمین کو سیراب کرنے والے، اور فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی لہب نے کہا: [1] الشیخان بروایت بلاذری، ص: ۳۱۹ [2] الشیخان بروایت بلاذری، ص: ۳۲۰ [3] ابن سعد: ۳/ ۳۲۰، ۳۲۱۔ تاریخ المدینۃ المنورۃ، ابن شبۃ: ۲/ ۷۴۲ [4] یہ وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چچا کی زندگی میں ان کی دعاؤں کا وسیلہ تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ذات، یا کسی بھی میت کی ذات کا وسیلہ لینا جائز ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب کے پاس نہ جاتے۔