کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 385
پر تقسیم کردوں گا، کیونکہ لوگ آدھا پیٹ کھا کر زندہ رہ سکتے ہیں اتنے میں وہ ہلاک نہیں ہوں گے۔‘‘ [1] آپ نے کئی کمیٹیاں تشکیل دے کر ان کے ذریعہ سے بہت سے قبائل کو ان کے گھروں تک غلہ وخوراک پہنچانے کا انتظام کیا، چنانچہ جب سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامان رسد سے لدے ہوئے اونٹوں کا قافلہ شام میں داخل ہونے لگا تو آپ نے کچھ لوگوں کو نگران وکارکن کی حیثیت سے یہ ذمہ داری دی کہ ان اونٹوں کے جزیرۂ عرب میں داخل ہوتے ہی انہیں مختلف علاقوں میں تقسیم کردیں، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، اونٹوں کو اپنے دائیں بائیں جہاں ضرورت محسوس کی تقسیم کردیا، پھر وہ لوگ اونٹوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت، آٹا، چادر اور کپڑے وغیرہ ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر سے سمندری راستے سے جو غلہ بھیجا تھا آپ نے اسے ایک آدمی کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اہل تہامہ کو پہنچا دو اور انہیں کھلاؤ۔ [2] ۴: اللہ تعالیٰ سے مد دطلبی وفریاد رسی اور نماز استسقاء: سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عام الرمادہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ خطبہ دیا: ’’اے لوگو! اپنے ظاہری اعمال میں، نیز تمہارے جو معاملات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں سب میں اللہ سے ڈرو، میں تمہارے ذریعہ سے اور تم میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو، میں نہیں جانتا کہ اللہ کی ناراضگی تم کو چھوڑ کر مجھ پر نازل ہوئی ہے، یا مجھ کو چھوڑ کو تم پر نازل ہوئی ہے، یہ ناراضگی ہم سب کو شامل ہے، آؤ ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے دلوں کی اصلاح کردے، اورہم پر رحم فرمائے اور ہم سب سے اس آفت (قحط سالی) کو دور کردے۔‘‘ آپ اس دن اس حالت میں دیکھے گئے کہ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے اور لوگوں نے بھی دعا کی، آپ خود گریہ کناں ہوئے، لوگ بھی گریہ کناں ہوئے، پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔‘‘ [3] اسلم سے روایت ہے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ’’اے لوگو! مجھے خوف وخطر لاحق ہے کہ اللہ کی ناراضی ہم سب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے، لہٰذا اپنے ربّ کو راضی کرلو، غلط حرکتوں سے باز آجاؤ اور اپنے ربّ سے توبہ کرو، اور نیک اعمال کرو۔‘‘ [4] اور عبداللہ بن ساعدہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی تو لوگوں کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! اپنے ربّ سے استغفار کرو، اور اسی سے توبہ کرو، اس سے اس کے فضل وکرم کے طالب بنو، اس سے ایسی بارش کا سوال کرو جو بارانِ رحمت ہو، بارانِ عذاب نہ ہو، یہی عمل مسلسل کرتے [1] تاریخ الطبری: ۵/ ۸۰ [2] الفاروق عمر، ص: ۲۶۲ [3] الفاروق عمر، ص: ۲۶۲ [4] الفاروق عمر، ص: ۲۶۳