کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 384
طرح کہا تھا جس طرح آج میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا تھا جس طرح تم جواب دے رہے ہو، پھر بھی آپ نے مجھے دیا تھا۔ یہ سن کر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے وہ چار ہزار درہم قبول کرلیے، اور اپنے افسران کے ساتھ واپس لوٹ گئے، اور پھر امداد وتعاون کا سلسلہ جاری ہوگیا۔[1] معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے خوراک سے لدے ہوئے تین ہزار اونٹوں کا قافلہ بھیجا نیز آٹے سے لدے ہوئے ایک ہزار اونٹوں کا قافلہ عراق سے آپہنچا۔[2] خوراک اور غلہ جب مہیا ہوگیا تو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ اور اس کے قرب وجوار میں دور دراز دیہاتوں سے بھاگ بھاگ کر آنے والے وفود پر تقسیم کرنا شروع کیا، کچھ امدادی غلہ جات اور خوراک کو بادیہ نشینوں تک بھیجا، اور یہ حکم دیا کہ اسے تمام عرب قبائل پر تقسیم کیا جائے۔ سیّدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عام الرمادہ میں عمر رضی اللہ عنہ نے بادیہ نشینوں کی امداد کے لیے آٹا، چربی اور تیل سے لدے ہوئے اونٹوں کا ایک قافلہ تیار کرکے مجھے حکم دیا کہ اس قافلہ کو لے کر سب سے پہلے نجد والوں کے پاس پہنچو، اور ان میں سے جس گھرانے کے لوگوں کو مجھ تک بھیج سکتے ہو انہیں بھیجو، اور جو گھرانے آنے کے قابل نہ ہوں انہیں ایک ایک اونٹ پورے ساز و سامان کے ساتھ دے دو، اور انہیں بتا دو کہ ہر ایک اپنے لیے دو چادریں لے، ایک ٹھنڈ کے لیے اور ایک گرمی کے لیے، نیز ان سے کہہ دو کہ اونٹ کو ذبح کرلیں، اس کی چربی محفوظ رکھ لیں، گوشت کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کرلیں، اور پھر چربی وآٹا سے تیار کردہ خوراک اپنی غذا بنالیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی روزی کشادہ کردے۔ [3] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیگر ریاستوں سے کپڑے اور غلہ کی جو مدد پہنچتی آپ ہر ہر مہینے اسے لوگوں کے پاس بھیجتے رہتے، آپ کا لنگر برابر بنٹتا رہتا، ماہر خانسامے (باورچی) مسلسل کھانا پکاتے رہتے، صبح ہی سے وہ کھانا پکانے میں لگ جاتے اور لوگوں کو کھانا فراہم کرتے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان کردیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے قحط سالی دور نہ کی تو ہر گھرانے کے ساتھ انہی کی تعداد دوسروں کو بھی ان کے ساتھ کر دوں گا، اور اللہ تعالیٰ جو کچھ ہم کو میسر کرے گا وہ سب کو کھلاؤں گا، لیکن اگر میں اس سے بھی عاجز ہوگیا تو ہر صاحب وسعت کنبہ پر اسی کی تعداد میں دوسروں کی کفالت کا بھی اسے مکلف کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ زندگی (بارش) نازل کردے۔ [4] اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر قحط نے طول پکڑا تو ہر بھوکے کو صاحب وسعت گھرانوں [1] أخبار عمر، ص: ۱۱۵ [2] أخبار عمر، ص: ۱۱۵ [3] ألفاروق عمر، ص: ۲۶۲ [4] ألفاروق عمر، ص: ۲۶۳