کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 380
فراہم کرنے کی کوشش میں رہتے، اپنی پوری رعایا کے لیے فکر مند تھے، وہ بھاگ کر مدینہ آگئی ہو یا اپنے گھروں میں بادیہ نشین رہی ہو، اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے آپ نے اپنی پوری طاقت وصلاحیت جھونک دی، اور پھر ان تمام مشقتوں کو اٹھانے کے بعد نفس پر سختی اور ایسی سختی کی کہ اس کی عظمت ومعنویت کا کیا کہنا! قحط زدہ پوری دنیائے انسانیت نے اعتراف کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ عام الرمادہ میں قحط کو دور نہ کرتا تو ہمیں ایسا یقین ہونے لگا تھا کہ کہیں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تئیں اپنے واجبات کے شدید احساس وغم سے وفات نہ پاجائیں۔ [1] ۲: ’’عام الرمادۃ‘‘ میں پناہ گزینوں کا کیمپ: اسلم سے روایت ہے کہ ’’عام الرمادہ‘‘ میں اہل عرب ہر چار جانب سے مدینہ پہنچنے لگے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ وفود کی ضروریات ومفادات کو پیش نظر رکھیں، میں نے ایک رات آپ کو فرماتے ہوئے سنا ’’شام کا کھانا ہمارے پاس کتنے لوگ کھاتے ہیں، ان کو شمار کرو۔‘‘ اگلی رات شمار کیا گیا تو کھانے والوں کی تعداد سات ہزار تھی، اور جب بیمار مردوں نیز عورتوں وبچوں کو بھی شمار کیا گیا تو ان کی تعداد چالیس ہزار تھی۔ پھر تھوڑے ہی دنوں بعد یہ تعداد بڑھ کر ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ لوگ مسلسل انہی حالات سے دوچار رہے، یہاں تک کہ اللہ نے آسمان سے بارش نازل فرمائی، اور جب بارش ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وفود کو اپنے گھر جانے کا حکم دیں، اور دیہات میں ان کو ان کے گھروں تک غذا اور غلہ بھیجنے کا انتظام کیا، خشک سالی سے بہت سے لوگ وفات پاگئے تھے میرے خیال میں قحط سے متاثر ہو کر دو تہائی لوگ مر گئے تھے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دیگچہ کھانا پکانے کے لیے آگ پر چڑھایا جاتا تھا، اور صبح ہی سے کھانا پکانے والے اس پر لگ جاتے اور کرکور اور عصائد پکاتے۔ [2] اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے امراء کو ذمہ داریاں سونپتے ہیں اور پناہ گزینوں کا کیمپ تیار کرتے ہیں، اور انتظامی عملہ پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریوں کو بلا کم وبیش نبھاتا ہے، دوسرے کی ذمہ داری وعمل میں دخل اندازی بالکل نہیں کرتا۔ [3] مدینہ کے قرب وجوار میں آپ نے اپنے افسران کو یہ ذمہ داری دے کر بھیجا کہ جو لوگ دور دور سے خشک سالی اور شدت بھوک سے متاثر ہو کر حکومتی تعاون وعطیات لینے آئے ہیں ان کے حالات کا جائزہ لیں، چنانچہ وہ لوگ ان میں کھانا اور سالن وغیرہ تقسیم کرتے اور جب شام ہوتی تو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سب لوگ اکٹھے ہوتے اور ان کے حالات سے واقف کراتے، اور آپ ان کی دوسرے دن کی رہنمائی کرتے۔ [4] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ [1] ’’ یرفا‘‘ عمر رضی اللہ عنہ کا دربان تھا، جاہلیت کا زمانہ پایا اور اسلام کا بھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس نے عمر فاروق کے ساتھ حج کیا۔ [2] مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے، جہاں عمر رضی اللہ عنہ کی موقوفہ جائیداد تھی۔ [3] طبقات ابن سعد: ۳/ ۳۱۲۔ الشیخان بروایۃ البلاذری، ص: ۲۹۴ [4] طبقات ابن سعد: ۳/ ۳۱۵۔ محض الصواب: ۱/ ۳۶۳