کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 376
جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے۔‘‘ ملک شام کی فوجی چھاؤنیاں : دمشق کی فوجی چھاؤنی: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بالترتیب تین لوگ اس کے ذمہ دار اعلیٰ بنے: ۱: یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ۲: سوید بن کلثوم رضی اللہ عنہ ۳: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما حمص کی فوجی چھاؤنی: اس کے پہلے ذمہ دار ابوعبیدہ عامر بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، پھر عبادہ بن صامت، پھر عیاض بن غنم، پھر سعد بن عامر بن خذیم، پھر عمیر بن سعد، پھر عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہم بالترتیب اس کے ذمہ دار رہے۔ قنسرین کی فوجی چھاؤنی: اس کے اوّلین ذمہ دار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، پھر عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ اس کے ذمہ دار بنے۔ فلسطین کی فوجی چھاؤنی: اس کے اوّلین ذمہ دار یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد علقمہ بن مجرز رضی اللہ عنہ تھے۔ اردن کی فوجی چھاؤنی: یہ ’’طبریہ‘‘ میں واقع تھی، اس کے اوّلین ذمہ دار شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ ذمہ دار ہوئے۔ طاعون عمواس میں جب یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی وفات ہوگئی تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق اور اردن کی فوجی چھاؤنیوں کی بھی ذمہ داری سنبھالی۔ [1] درحقیقت اللہ کی رضا جوئی کی خاطر جذبہ جہاد نے بہت سارے صحابہ وعلماء تابعین کو ان مقامات کی طرف کوچ کرنے پر ابھارا جنہیں شہری حیثیت اور سرحدی حفاظت حاصل ہوچکی تھی، دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر یہاں آآکر آباد ہونے کے پیچھے ان کا یہ جذبہ صادق بھی کار فرما تھا کہ وہ اسلامی دعوت کی نشر واشاعت، قرآن وسنت کی تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھرپور حصہ لیں، اس طرح مدینہ منورہ، بصرہ، کوفہ، دمشق اور فسطاط گنجان آبادی والے شہر بن گئے۔ لوگ وہاں حصولِ علم اور جہاد کی نیت سے منتقل ہوئے یا فوجی دیوان میں نام درج کرانے، اور سرکاری عطیات حاصل کرنے، یا تجارت اور دیگر صنعت وحرفت سیکھنے اور وسیع کرنے کی نیت سے [1] تاریخ الدعوۃ الإسلامیہ، د/ جمیل المصری، ص: ۳۳۹ [2] تاریخ الدعوۃ الإسلامیہ، د/ جمیل المصری، ص: ۳۴۰ [3] البدایۃ والنہایۃ: ۷/ ۱۳۸۔ تاریخ الدعوۃ، ص: ۳۴۱