کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 374
تھا، یہ اور بات ہے کہ اس نظام کے تحت آج کی طرح زمینوں کی وسیع حدبندی نہ کی جاتی تھی، بلکہ ہر دو قبیلہ کے درمیان سے ایک سڑک نکالی گئی تھی، انہیں آج کے مفہوم میں ہم سڑک تو نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ کہیں گے کہ ہر دو قبائل کے درمیان میں کشادہ گلیاں نکالی گئی تھیں، زمین کی حد بندی اور پلاٹ کی تقسیم کے لیے مقرر کیے گئے ممتاز صحابہ کرام کی جماعت معاویہ بن خدیج النجیبی، شریک بن سُمی الغطیفی، عمرو بن محرم الخولانی، اور حویل بن ناشرۃ المعافری رضی اللہ عنہم پر مشتمل تھی۔ ۲۱ھ میں انہی حضرات نے لوگوں کو یہاں بسایا، اور قبائل کے اعتبار سے ان کو تقسیم کیا تھا۔ ‘‘[1] باوجودیکہ اس مقام پر نو آباد کردہ تمام محلوں اور قبائل کا تفصیلی ذکر ممکن نہیں ہے تاہم چند ایک کا ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہیں(لفظ محلہ کی جگہ خطہ لکھا گیا ہے )، پس ان محلوں میں سے چند کے نام یہ ہیں: خطہ اسلم، خطہ لیتون، خطہ بنی معاذ، خطہ بلی، خطہ بنی بحر، خطہ مہرۃ، خطہ لنحم، خطہ غافق، خطہ صدف، خطہ حضر موت، خطہ تجیب، خطہ خولان، خطہ مذحج، خطہ مراد، خطہ یافع، خطہ معافر اور انہی کے ساتھ اشعری حضرات بھی تھے۔ [2] مختلف قبائل کے یہ نام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فتح اسکندریہ میں عربی اور غیر عربی قبائل کثرت سے شریک ہوئے تھے، جس کے نتیجہ میں انہی قبائل پر مشتمل بہت زیادہ کالونیاں اور مخصوص رہائشی محلے وجود میں آئے، اور ہر قبیلہ نے اپنے مسائل وضروریات زندگی کو باہم حل کرنے کے لیے یہ پسند کیا کہ اسے ایک مخصوص طرح کی خود مختاری حاصل رہے، نیز یہ نو آباد محلے ہمیں اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ ہر قبیلہ کی رہائش گاہیں اور کالونیاں متعین کرنے میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بہت دقیق خاکہ ومنصوبہ تیار کیا تھا۔ [3] ان قبائل نے اپنے اپنے محلوں کے بالکل بیچ میں اپنے لیے مسجد بنائی تھی۔ ابن ظہیرہ نے اپنی کتاب ’’الفضائل الباہرۃ فی محاسن مصر والقاہرۃ‘‘ میں ابن زولاق کے حوالہ سے فسطاط میں تعمیر کردہ جن ابتدائی مساجد کا ذکر کیا ہے ان میں سب سے پہلے جامع عمرو بن عاص کا ذکر ملتا ہے، پھر اس کے بعد ان دیگر مساجد کا شمار ہے جو مخصوص افراد کی طرف منسوب تھیں۔ [4] اس کے بعد مؤلف لکھتے ہیں کہ مساجد مصر کے بارے میں ہماری تیار کردہ فہرست کے علاوہ بھی صحابہ کے نام سے منسوب دوسری بہت ساری مساجد تھیں جنہیں ان لوگوں نے فتح کے وقت بنایا تھا اور ان کی تعداد تقریباً دو سو تینتیس (۲۳۳) تک پہنچتی ہے، وہ مساجد قبائل وخاندان سے ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔ [5] [1] تاریخ الطبری: ۵/ ۲۱۱، ۲۱۲، ۲۱۳۔ خطب أمیر المومنین عمر بن خطاب ووصایاہ، محمد أحمد عاشور، ص: ۳۱ (مترجم) [2] فتوح مصر، ابن عبد الحکم، ص:۹۱۔ عربی زبان میں فسطاط خیمہ کو کہتے ہیں ، چونکہ آپ نے یہاں شروع میں خیمہ لگایا تھا اس لیے اس کو فسطاط کہا جاتا ہے۔ [3] عمرو بن عاص القائد السیاسی، ص: ۱۳۵ [4] فتوح مصر، ص: ۹۶، ۹۷