کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 371
کوشاں رہے کہ اپنے دور میں فتوحات کے نتیجہ میں مال ودولت کی فراوانی وکثرت سے پیدا ہونے والی خرابیوں اور بیماریوں کا کس طرح علاج کریں، فارس کے تمام علاقے اور روم کے کچھ شہر فتح ہوچکے تھے اور اس سے اللہ نے مسلمانوں کو غنیمت، فے اور جزیہ کے بہت سارے اموال سے نواز دیا تھا، فتوحات کی وسعت اور دولت کی کثرت کو دیکھ کر امیر المومنین نے ایک بلیغ خطبہ دیا اور لوگوں کے سامنے صورت حال کی منظر کشی کی اور مسلمانوں کو مثالی سلوک وکردار پیش کرنے کی طرف رہنمائی کی۔ آپ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ جل شانہ پاک ہے، اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے۔ اسی نے تم پر شکر گزاری واجب کردی ہے، بغیر تمہارے مانگے اور بغیر تمہاری رغبت کے تمہیں دنیا وآخرت کی کرامات اور نعمتوں سے نواز کر تم پر اپنی حجت قائم کردی ہے، تم کچھ نہ تھے لیکن اس نے تم کو اپنے دین کی سربلندی اور اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، وہ اس بات پر قادر تھا کہ تم کو اپنی سب سے ذلیل ترین مخلوقات کے لیے پیدا کرتا لیکن تمہارے لیے اپنی تمام مخلوقات کو پیدا کیا، تم کو اپنے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں بنایا، بحر وبر کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا اور تمہیں پاک ونفع بخش روزی عطا کی، تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو، پھر اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھ بھی بنائے، اللہ کی تم پر کچھ ایسی نعمتیں ہیں جن سے سارے انسان نوازے گئے ہیں۔ جب کہ اس کی کچھ نعمتیں خاص تم مسلمانوں کے لیے ہیں اور پھر وہ خاص وعام نعمتیں تم کو تمہارے ملک میں، تمہاری زندگی میں اور تمہارے معاشرہ میں میسر ہیں۔ ان نعمتوں میں سے کوئی نعمت نہیں ہے جو صرف کسی ایک فرد کو عطا کی گئی ہو، سوائے اس نعمت خاصہ (اسلام) کے اگر اس کے حقوق کو سارے انسانوں میں تقسیم کردیا جائے تو اس کی شکر گزاری ان کو تھکا دے، اور اسی کے حقوق تلے انسان دب جائے، مگر یہ کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ اللہ کی توفیق بھی شامل ہو۔ تم زمین میں خلیفہ بنائے گئے ہو، اہل زمین پر تم کو فوقیت دی گئی ہے اور اللہ نے تمہارے دین کی مدد کی ہے، دو اقوام کے علاوہ تمہارے دین کا کوئی مخالف نہیں ہے۔ ایک وہ قوم جو اسلام اور مسلمانوں کی غلام ہے یعنی ذمی لوگ، تمہیں (جزیہ) دینے کے لیے وہ تجارت کرتے ہیں، اپنی معیشت، محنت اور کوشش کی بہترین کمائی کو وہ ادا کرتے ہیں، محنت اور راس المال ان کا ہوتا ہے اور تمہیں نفع ملتا ہے اور دوسری قوم وہ ہے جو تم پر مصیبت الٰہی اور غیظ وغضب کی صبح وشام منتظر رہتی ہے، یعنی منافق لوگ، اللہ نے ان کے دلوں کو اپنے رعب سے بھر دیا ہے ان کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں اور کوئی جائے فرار نہیں جہاں وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ خوشحال ومال دار، طاقت ور وپیہم مفتوحہ علاقوں سے وفود کی آمد اور سرحدوں کے محفوظ ہونے کے باوجود فوج الٰہی نے ان کے دلوں کو دہلا دیا ہے۔ عافیت وامن عام کا ایسا عالم ہے [1] التاریخ الإسلامی: ۱۹،۲۰/ ۲۲ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۹،۲۰/ ۲۳