کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 370
ہے اور اس بھاگ دوڑ میں زندگی کے فہم بالشان اور اصل الاصول مقاصد مثلاً نماز اور حصولِ علم سے غافل ہوجاتا ہے۔ [1] فرمان فاروقی کہ ’’ان عمارات میں بھلائی ہے جو تمہیں حد اعتدال میں رکھیں اور اسراف تک نہ لے جائیں‘‘ کی مختصر توضیح: آپ کے قول کا مقصد یہ تھا کہ شریعت کی نگاہ میں قابل تحسین مکان وہ ہے جس کی تعمیر وتزئین میں انسان اسراف وبے جا مصارف سے محفوظ رہے اور دائرۂ اعتدال سے آگے نہ بڑھے، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے مکانات کی تعمیر میں اسراف سے منع تو کیا لیکن اس کی حد بندی کی، کیونکہ ہر شہر اور علاقے میں اسراف وفضول خرچی اور اعتدال ومصارف کا مخصوص عرف ومزاج ہوتا ہے۔ لہٰذا دنیوی معاملات میں عاملین شریعت، اور اعتدال پسند مسلمانوں کا طبقہ جس مقدار ومعیار کو عرف وعادت مانتا ہوگا وہی مقدار ومعیار معتبر ہوگا۔ [2] فرمان فاروقی ’’سنت کو لازم پکڑو یقینا تمہیں حکومت ملے گی‘‘ کی مختصر توضیح: آپ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا اس کو لازم پکڑنا کفر پر فتح مندی اور زمین میں غلبہ وحکمرانی کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور:۵۵) ’’اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘ پس جب سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا دنیا سے بے رغبتی، اور زہد کی طرف رغبت دلانے کا یہ عالم اس وقت تھا جب کہ مسلمان خود بخود زہد اور دنیا سے رغبتی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے کوشاں تھے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو بعد کے ادوار میں پیدا ہوئے اور دنیا کے مظاہر اور اس کی رنگینیوں کے حصول میں ایک دوسرے پر فوقیت لے جانا چاہتے ہیں۔ دنیا سے بے رغبتی کی اس دعوت کے ساتھ ساتھ آپ اس بات کے لیے [1] التاریخ الاسلامی: ۱۹،۲۰/ ۲۲