کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 369
اور گرمی سے محفوظ رکھ سکیں، اونچے اونچے محلوں کی تعمیر اور ان میں رہائش ان کا مقصد نہ تھا، اسی وجہ سے جو چیز ان کو وافر مقدار میں میسر تھی یعنی بانس وغیرہ، اسی سے گھر بنائے اور مجبوری کے وقت مٹی کے مکانات تعمیر کیے، مٹی کے مکانات ہونے کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اونچی اونچی عمارتوں اور محلات کی تعمیر میں مقابلہ آرائی سے روکنے کے لیے لازمی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ گویا آپ کی دور اندیش نگاہیں اس وسعت ومالی فراوانی کو دیکھ رہی تھیں جو فتوحات کے بعد امت مسلمہ کو ملنے والی تھی۔ اس قسم کی ہدایات وتوجیہات سے آپ اسی بات کی کوشش میں تھے کہ امت مسلمہ کو مالی اسراف اور عیش پرستی سے روکا جائے، اور اسے اعتدال پسند زندگی کا عادی بنایا جائے۔ آپ کی بات سے یہ چیز مترشح ہوتی ہے کہ آپ نے جن مکانات کو خیر وبرکت سے خالی کہا ہے اس سے مراد وہ مکانات ہیں جو دائرہ اعتدال سے باہر ہوں، اور ان کی تعمیری ساخت ومصارف اسراف کی حد تک پہنچے ہوئے ہوں۔ پس بلا ضرورت فلک بوس عمارتوں کی تعمیر اسراف وفضول خرچی کی واضح علامت ہے کیونکہ انسان بلند وبالا مکانوں کی تعمیر میں بھاری رقم خرچ کرتا ہے اور اس کے لیے لمبا وقت لگاتا ہے۔ اور جب انسان کی ساری محنت وکوشش اسی پر مرکوز ہوتی ہے تو صبح وشام اس کے ذہن ودماغ پر اسی کی فکر بھی مسلط رہتی ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کے نزدیک زندگی کا مقصد ہی یہ ٹھہرا ہے کہ فلک بوس محلات تیار کریں۔ [1] اگرچہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں دنیوی مال ودولت کی ریل پیل سے امت مسلمہ کے بھٹک جانے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا اور ہمہ وقت اس کوشش میں تھے کہ اسے رہائش گاہوں اور مکانات کی تعمیر و تزئین پر ساری توجہات اور صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے روکیں، یہاں تک کہ مکانات صرف بقدر ضرورت اس فانی دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جائیں، تو آج ہمیں وہ اندیشہ حقیقت کی شکل میں عیاں نظر آتا ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ دور حاضر میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر وتزئین میں زندگی کے کئی سال فنا ہوجاتے ہیں اور اپنے پیچھے قرضوں کے انبار لگاتے جاتے ہیں، پھر بقیہ زندگی قرض کی ادائیگی میں ختم ہوجاتی ہے۔ اس انسان کی زندگی اسی طرح گزر جاتی ہے، اور وہ زکوٰۃ وصدقات نام کی کوئی چیز نہیں جانتا۔ حالانکہ اس کا شمار متوسط طبقہ کی زندگی گزارنے والوں میں ہوتا ہے۔ میری بات مشاہدات کی روشنی میں بالکل صداقت پر مبنی ہے کیونکہ محلات کا جو تصور ہمارے نزدیک پایا جاتا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ایسی عمارتوں میں جمالیات وکمالیات اور عیش وعشرت کے اسباب ووسائل مکمل طور سے مہیا ہوں۔ پھر ان چیزوں کی تکمیل محلات کے مالکان کو طاقت سے زیادہ تگ و دو کرنے اور اس کے پیچھے سالہا سال تک خود کو قربان کردینے پر ابھارتی ہے، تاکہ نمائش کی دنیا میں وہ مقابلہ کرنے والوں کی صف میں خود کو کھڑا کرسکے اور پھر نمائش ومقابلہ کے اس بازار میں اسلام کی چند اہم ترین وحساس عبادات اور اعمالِ صالحہ مثلاً مالی عبادات میں زکوٰۃ اور مجاہدین اسلام کی مدد جیسے فرائض کی ادائیگی کو ضائع کردیتا [1] اردو زبان میں اسے بانس اور نرکل کہتے ہیں ۔ (مترجم) [2] تاریخ الطبری: ۵؍۱۵۔ [3] تاریخ الطبری: ۵/ ۱۶