کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 368
سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا یہ اندیشہ کہ کہیں مسلمان عیش وعشرت کے دلدادہ نہ ہوجائیں: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ عیش وعشرت کے دلدادہ نہ ہوجائیں، اور پھر اس کے نتیجہ میں دنیا وآخرت کی جو برائیاں سامنے آتی ہیں اس کے شکار نہ ہوجائیں۔ چنانچہ جب کوفہ اور بصرہ کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں مطمئن ہوگئے تو انہوں نے خود کو پہچانا اور اپنے ماضی کو یاد کیا، اور ناز و نعمت کی جو چیزیں اسلام لانے کے بعد ان کے ہاتھوں سے نکل گئی تھیں وہ دوبارہ ان کے پاس لوٹ آئیں۔ پھر کوفہ اور بصرہ والوں نے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے فوجی چھاؤنی چھوڑ کر بانس کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا: فوجی چھاؤنی کی زندگی تمہاری لڑائی میں زیادہ مؤثر اور جنگ کو بھڑکا دینے والی ہے۔ تاہم میں تم لوگوں کی مخالفت نہیں کرتا لیکن یہ بتاؤ کہ بانس کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ گانٹھ اور کانٹے دار ایک پودا ہے جو زمین کی گہرائی سے نکلتا ہے، جب اسے سیراب کیا جاتا ہے تو اس میں گانٹھیں ہوجاتی ہیں اور وہ بڑھتا جاتا ہے۔ [1] آپ نے فرمایا: پھر تو آپ لوگوں کو اختیار ہے۔ اس کے بعد دونوں شہروں کے لوگوں نے بانس کے مکانات تعمیر کیے۔ [2] پھر کوفہ اور بصرہ میں ایک مرتبہ آگ لگ گئی، کوفہ میں سب سے تیز آگ لگی اس میں اسّی (۸۰) سے زیادہ چھپر کے مکانات جل کر خاکستر ہوگئے، بانسوں کی ایک کھپچی تک نہ محفوظ رہی، لوگ بہت پریشان ہوئے اور آگ سے حفاظت، نیز چھپروں کے متبادل رہائش گاہوں کے بارے میں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا ایک وفد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کیا تاکہ پکی اینٹ کے مکانات بنانے کی آپ سے اجازت لے لیں۔ وہ لوگ آپ کے پاس آئے اور کوفہ وبصرہ کی آتش زدگی نیز اس سے ہونے والے اپنے نقصانات سے آپ کو باخبر کیا۔ وہ لوگ جب بھی کسی حادثہ یا اہم واقعہ سے دوچار ہوتے تو آپ سے مشورہ کرتے تھے، آپ نے فرمایا: تم ایسا کرلو، یعنی اینٹ کے مکانات بنا لو، لیکن تین کمروں سے زیادہ نہ بنانا، اور نہ بہت اونچی عمارت بنانا، اور سنو! سنت کو لازم پکڑو، تمہیں یقینا حکومت ملے گی۔ بہرحال وہ وفد اجازت پا کر کوفہ واپس لوٹ گیا اور آپ نے عتبہ رضی اللہ عنہ اور بصرہ والوں کو بھی اسی طرح کا خط روانہ کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس وفد سے وعدہ لیا، اور لوگوں کو پھر تاکید کی کہ بقدر ضرورت ہی اپنی عمارتوں کو اونچا کریں، لوگوں نے پوچھا: ضرورت کی حد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جو تم کو حد اسراف تک نہ لے جائے، اور حد اعتدال ومیانہ روی سے باہر نہ کردے۔ [3] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے ان اخبار وآثار کو سامنے رکھنے سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ لوگ دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز تھے، مکانات اور رہائش گاہیں اتنی ہی مطلوب تھیں جو انہیں دھوپ، بارش، سردی [1] تاریخ طبری: ۵/ ۱۷ [2] تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ، ص: ۳۳۶ [3] تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ، ص: ۳۳۶ [4] تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ، ص: ۳۳۸ [5] الخلفاء الراشدون، ص: ۱۸۲