کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 367
ہاتھ کی ایک گلی جاتی تھی، اسی طرح مسجد سے متصل ہی بیت المال کی عمارت بنائی گئی، تعمیر کا یہ سارا کام روزبہ الفارسی نے انجام دیا۔ [1] اس شہر میں سب سے پہلے صرف مجاہدین اقامت گزیں تھے، لیکن بعد میں فارس کے حکمران رستم کی ایک فارسی موج جس کی تعداد چار ہزار (۴۰۰۰) تھی اور یہ ’’لشکر شہنشاہ‘‘ کے نام سے معروف تھی اس نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جزیہ دینے کے عوض یہ درخواست کی کہ ہمیں اپنی مرضی کے مطابق کوفہ میں رہنے اور لوگوں سے تعلقات پیدا کرنے کا موقع دیں۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاص نے ان کی درخواست منظور کرلی، معلوم رہے کہ ان کا نقیب ’’دیلم‘‘ نامی ایک شخص تھا، اس لیے اس جماعت کو ’’حمراء دیلم‘‘ کہا جانے لگا۔ [2] اسی طرح جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جزیرہ عرب سے نجران کے یہود ونصاریٰ کو جلاو طن کیا تو وہ بھی یہیں آکر آباد ہوئے اور جس خطہ میں یہ لوگ آباد ہوئے تھے اسے ’’نجرانیہ‘‘ محلہ کہا جاتا ہے۔ [3] بصرہ اور کوفہ کو شہری حیثیت مل جانے کے بعد دونوں شہروں کی اہمیت بڑھ گئی، اسلامی افواج کی قیادت، اور پورے عالم اسلام میں علم وادب کا پرچم بلند کرنے میں انہیں کافی شہرت ملی، اسلامی قوت وشوکت حجاز سے کوفہ منتقل ہوگئی اور سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنا لیا۔ [4] بے شک سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے صحیح اور مستحکم بنیادوں پر بصرہ اور کوفہ کی آباد کاری کی، اس کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع کیا اور انہیں نہایت بہترین انداز میں منظم کیا، مجموعی طور پر آپ کی یہ طرز فکر بتاتی ہے کہ فن آبادکاری میں آپ کی شخصیت منفرد وبے مثال تھی۔ بہرحال کوفہ اگر ایک طرف شہری زندگی کا سماں پیش کررہا تھا تو دوسری طرف اس کے باشندے دیہات کی کھلی آب وہوا اور سبزہ زاروں کے منظر سے محظوظ ہورہے تھے اور یہ چیز جسمانی صحت کے لیے بہت مفید نیز بہترین ہوا کے لیے بہت معاون ہے۔ شہروں کے حسن وجمال کو نکھارنے اور انہیں زندگی بخشنے میں اس کی سڑکوں اور عام راستوں کی کشادگی کا وہی مقام ہے جو مقام انسان کے جسم میں اس کے پھیپھڑوں کا ہوتا ہے۔ کوفہ میں آباد ہونے والے مجاہدین کے بارے میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگ اپنے خیموں ہی کو اپنا مسکن بنائیں، کیونکہ یہ طرز سکونت بوقت ضرورت انہیں اپنے عمل میں جلدی پیش قدمی کا موقع مہیا کرے گی اور دشمنانِ اسلام کو مرعوب کرنے کی ایک اہم علامت ہوگی، لیکن بعد کے ادوار میں ترقی کے کئی مراحل طے ہوئے اور شہروں کو گھاس پھوس، نرکل اور بانس کے گھروں کے بجائے سیمنٹ اور پکی اینٹوں سے بسایا جانے لگا۔[5] [1] تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ، ص: ۳۳۵