کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 363
شہر بصرہ: بصرہ کا لغوی معنی ہے کنکریلی پتھریلی سخت زمین، اور کچھ لوگوں کے نزدیک صرف کنکریلی زمین کو بصرہ کہا جاتا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ سفید کچے پتھر کو بصرہ کہا جاتا ہے۔ بہرحال بصرہ ایک شہر ہے جو دجلہ وفرات کے کنارے واقع ہے۔ اسے ’’شط العرب‘‘ کہا جاتا ہے۔ [1] اور شہر بصرہ کو بناتے اور آباد کرتے وقت عربوں کی بود وباش اور ان کے مزاج کے متعلق فاروقی نظریہ کی پوری رعایت کی گئی، چنانچہ اس کا محل وقوع پانی اور چراگاہ کے قریب، خشکی کے راستے پر ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہاں مسلمانوں کی آمد کی وجہ یہ تھی کہ قطبہ بن قتادہ الذہلی یا دوسری روایت کے مطابق سوید بن قطبہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کے ایک علاقے سے اہل فارس پر حملہ آور ہوئے تھے تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو اس علاقے کا حاکم اور کمانڈر بنا دیا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری اٹھائی تو عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ جو السابقون الاولون میں سے تھے، کو وہاں کا والی وکمانڈر بنا کر بھیج دیا اور ان سے کہا کہ اہواز، فارس اور میسان والوں تک ان کے (کافر)بھائیوں کی مدد نہ پہنچنے دینا، اور قطبہ یا سوید سے کہا کہ فوج لے کر عتبہ سے جا ملو۔ چنانچہ عتبہ سو مجاہدین کو لے کر ان سے مورچہ لینے کے لیے آگے بڑھے اور قطبہ اپنے ساتھ بکر بن وائل اور تمیم کے لوگوں کو لے کر عتبہ سے جاملے، اس طرح یہ اسلامی لشکر ربیع الاوّل یا ربیع الآخر ۱۴ھ میں بصرہ میں اترا۔ [2] بصرہ پہنچ کر عتبہ رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسے شہری آبادی میں بدلنے کے بارے میں مشورہ لیا، آپ نے ان کو حکم دیا کہ فوج لے کر ایسی جگہ ٹھہریں جہاں سے پانی اور چراگاہ قریب ہو۔ عتبہ کی نگاہ انتخاب بصرہ پر پڑی اور اس سلسلے میں آپ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے خشکی کے علاقے میں ایک سرسبز زمین مل گئی ہے، اس کے دوسری طرف پانی کے دریا ہیں ان میں گھاس پھوس اور بانس وغیرہ ہیں۔ آپ نے جواب میں لکھا کہ ٹھیک ہے وہیں قیام کرو۔ چنانچہ عتبہ رضی اللہ عنہ نے وہیں افواج اتاریں، اور بانس کی کھپچیوں اور گھاس پھوس سے وہاں مسجد بنائی، مسجد سے الگ ایوانِ حکومت بنائے۔ بانس کی کثرت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں نے بانسوں ہی کی مزید سات جھونپڑیاں بنائیں، جب غزوہ کے لیے جاتے تو انہیں اکھاڑ کر رکھ دیتے، پھر جب غزوہ سے واپس آتے تو دوبارہ انہی بانسوں کا چھپر وغیرہ بنا کر جھونپڑی تیار کرلیتے۔ ایک مرتبہ ان مکانات میں آگ لگ گئی اور سب کو جلا کر خاکستر کردیا تو وہاں کے لوگوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کچی اینٹوں کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی، آپ نے ۱۷ھ میں عتبہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں اس بات کی اجازت دے دی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مسجد اور ایوانِ حکومت کو گارے اور کچی اینٹوں سے بنوایا اور [1] اقتصادیات الحرب فی الإسلام، ص: ۲۴۵ [2] تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ، د/ جمیل المصری، ص: ۳۳۳