کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 359
مسجد اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فسطاط کی جامع مسجد کا نقشہ تیار کیا اور انہیں تنظیم سے بنوایا۔ یہ بڑی بڑی مساجد نماز، باہمی تعارف، تعلیم وتعلّم اور عدلیہ نیز خلیفہ وحکام کے فرامین اخذ کرنے کے کام آتی تھیں۔ [1] سڑکوں اور خشکی وسمندری وسائل نقل وحمل کا اہتمام: اسلامی مملکت کی مختلف ریاستوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے ایک فنڈ (خاص رقم) متعین کیا تھا، اور جن لوگوں کے پاس سواریاں نہ تھیں انہیں جزیرہ، شام اور عراق تک کے سفر میں آسانی پیدا کرنے کے لیے آپ نے بہت زیادہ اونٹوں کو مسافروں کو لانے لے جانے کے لیے خاص کردیا تھا، کیونکہ اونٹ ہی اس وقت سواری کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اسی طرح ستو تیار کرنے، کھجور اور کشمش کو قابل استعمال بنانے، نیز روز مرہ کی دیگر ضروریات زندگی کے لیے ایک دارالدقیق، یعنی آٹا گھر تیار کرایا، ایسے مسافر جن کا زاد سفر بیچ میں ختم ہوجاتا یا کوئی اجنبی مہمان آجاتا تو اسی سے اس کا تعاون کرتے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان کئی سرائیں اور پانی کے چشمے تیار کروائے، گویا قرآن کے اصول عمرانیات پر عمر رضی اللہ عنہ کی گہری نظر تھی جس میں انسانی آبادیوں کا ایک دوسرے سے ربط ضروری قرار دیا گیا ہے کہ جب یہ ربط موجود ہوگا تو امن کا رواج ہوگا اور مسافروں کو اپنے ساتھ آب و دانہ لے کر چلنا ضروری نہ ہو گا۔ [2] قبائل، امراء اور گورنروں کو عمرانیات سے متعلق فاروقی توجیہات اسی نقطہ پر مرکوز تھیں۔ کثیر بن عبداللہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ۱۷ھ میں عمر رضی اللہ عنہ کے عمرہ کے سفر میں ہم آپ کے ساتھ تھے، راستے میں چشموں کے بعض مالکان نے آپ سے گفتگو کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مکانات تعمیر کرلیں، جو اس سے پہلے نہیں تھے، آپ نے ان کو اس شرط پر اجازت دی کہ مسافر لوگ پانی اور سائے کے زیادہ حق دار ہوں گے،[3] یعنی انہیں منع نہ کیا جائے۔ اس باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے سٹرکیں بنانے اور ان کی مرمت کرنے سے متعلق اپنے بعض گورنروں کو لکھا کہ اس کا اہتمام مفتوحہ ممالک کی اقوام کریں گی، چنانچہ جب نہاوند فتح ہوا تو دو آبی چشموں یعنی چشمۂ بہرذان اور چشمۂ دینار کے لوگ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ جزیہ کے بدلہ انہیں امان دے دی جائے، تو آپ نے دونوں چشموں کے لوگوں سے جو معاہدہ کیا تھا وہ یہ تھا: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، حذیفہ بن یمان کی طرف سے چشمۂ دینار کے لوگوں کے لیے یہ عہد نامہ ہے: حذیفہ نے ان کے جان ومال اور زمینوں کو امان دے دی ہے، یہ لوگ تبدیلی مذہب پر مجبور نہ کیے جائیں گے، ان کو اپنی شریعت پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی، ان کا ہر بالغ فرد اپنی طاقت کے [1] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۷۔ فتح الباری: ۴/ ۹۸ [2] أخبار عمر، ص: ۱۲۶ [3] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۷۔ فتح الباری: ۸/ ۱۶۹ [4] أخبار عمر، ص: ۱۲۶۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۷ [5] أخبار عمر، ازرفی: ۱/ ۲۵۳۔ أخبا رعمر، ص: ۱۲۶ [6] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۸