کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 355
فذلکم مقاطع کل حتی ثلاث کلہن لکم شفاء[1] ’’تمہارے لیے ہر باطل کو یہی تین چیزیں کاٹ سکتی ہیں، اور تینوں کے تینوں تمہارے لیے مفید ہیں۔‘‘ آپ اس شعر کو پڑھ کر یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپ اپنے حقوق انہی تینوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ سے پاسکتے ہیں: قسم کھا کر، یا مقدمہ کے ذریعہ سے یا واضح اور کھلی دلیل کے سہارے۔ اس شعر کی حسن تقسیم اور فنی خوبیوں کو دیکھ کر آپ نے زہیر کو ’’شاعروں کا قاضی‘‘ کہا۔ آپ کو حیرت ہوئی کہ زہیر نے جاہلی شاعر ہوتے ہوئے باطل دعووں کو کاٹنے والی چیزوں کو کیسے پہچان لیا، اور جب دین اسلام آیا تو اس نے ان تینوں چیزوں کی تائید بھی کی۔[2] مذکورہ معیار کے علاوہ بھی منبع دین واخلاق سے نکلے ہوئے ایسے کئی معیار تھے جنہیں عمر رضی اللہ عنہ فن ادب میں مؤثر مانتے تھے اور ان کی طرف ادباء وشعراء کو متوجہ کرکے فن کو ایک نیا رخ دیتے تھے، گزشتہ صفحات میں جن فنی معیار کا ذکر ہوا ہے ان کے ساتھ دیگر معیار کا مختصراً اضافہ کردینا زیادہ مناسب ہے تاکہ پڑھنے والے کے سامنے دور فاروقی میں عربی ادب پر فاروقی تنقید کے وہ تمام گوشے اجاگر ہوسکیں جن کی عربی ادب کے ناقدین کو ضرورت پڑتی ہے، مثلاً: عمر رضی اللہ عنہ ان اشعار کو تحسین واستعجاب کی نظر سے دیکھتے تھے جن میں لطیف جذبات اور پاک احساسات کی سچی ترجمانی وتصویر کشی کی گئی ہو، مخبل سعدی اور امیہ بن اسکر کنانی کے اشعار کو صداقت کے اسی عنصر کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی زیادہ پسند کرتے تھے۔ اسی طرح آپ بلاغت کلام کی ترجیحات میں اس بات کو معیار بناتے تھے کہ معانی اچھوتے اور جدید ہوں، دین اور اس کے آداب واخلاق کے ہم مزاج ہوں، انہیں مؤثر پیرائے میں بیان کیا گیا ہو، طرز تعبیر نہایت دلکش اور جاذب نظر ہو، وہ صداقت اور معنوی جدت پر مشتمل ہونے کے ساتھ اسلام کے اخلاقیات کے موافق ہو اور مذموم ہجو، صریح گالی، ہتک عزت، شراب نوشی، بادہ وجام کی منظرکشی، یا اخلاقی بگاڑ اور ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے فسق وفجور سے پاک ہو، اس سے قبل حطیئہ اور سحیم جیسے بدزبان شعراء کے شاعرانہ کلام سے متعلق فاروقی مؤقف کو ہم ذکر کرچکے ہیں۔ [3] آپ کے اس تنقیدی نظریہ کی تائید نعمان بن عدی کے بارے میں نقل کیے جانے والے واقعہ سے ہوتی ہے، نعمان بن عدی کو عمر رضی اللہ عنہ نے میسان [4] کا حاکم بنا کر بھیجا۔ وہ وہاں گیا لیکن اس کی بیوی نے ساتھ جانے سے انکار کردیا، تو اس نے اپنی بیوی کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے عورتوں کی غیرت واحساس کو جگانے والے [1] المدینۃ النبویۃ، شُرّ اب: ۲/ ۱۰۲۔ عمر بن الخطاب، أبو النصر: ۲۵۳ [2] البیان والتبیین: ۱/ ۲۴۰۔ المدینۃ النبویۃ، شرّ اب: ۲/ ۱۰۵