کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 339
دع المکارم لا ترحل لبغیتہا واقعد فإنک أنت الطاعم الکاسی ’’یعنی بزرگی کے لیے سفر نہ کرو بلکہ بیٹھ رہو تم کو دوسرے لوگ کھلائیں گے اور پہنائیں گے…الخ‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں یہ ہجو نہیں ہے بلکہ تم پر عتاب کیا ہے۔ زبرقان نے کہا: حسان کو بلاؤ، چنانچہ حسان آئے، آپ نے ان سے اس شعر کے بارے میں پوچھا، تو حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے زبرقان کی ہجو نہیں کی ہے بلکہ اس پر گندگی اچھالی ہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قید میں ڈال دیا۔ [1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ شعر کی باریکیوں کو خود ہی بہت اچھی طرح جاننے والے تھے، لیکن چونکہ اس واقعہ کا تعلق قضاء وفیصلہ سے تھا اس لیے آپ نے ضرورت محسوس کی کہ کسی (متخصص) ماہر فن کو بلائیں جو درپیش مسئلہ کے بارے میں اپنا فیصلہ دے، اور پھر آپ اسے نافذ کریں۔ عربی ادیب عباس محمود عقاد کا کہنا ہے کہ پیش نظر معاملہ میں آپ کی نگاہوں سے یہ بات اوجھل ہوگئی کہ آپ خود ہی ادیب اور اشعار کو نقل کرنے والے ہیں، بلکہ آپ کے پیش نظر صرف یہی بات رہی کہ آپ اس وقت ایک قاضی کے مقام پر ہیں، جو شبہات کی بنیاد پر حدود کو معاف کرتا ہے، اور ماہرین فن کے علم سے مستغنی ہو کر صرف اپنے علم کی بنا پر حکم صادر نہیں کرتا۔[2] چنانچہ جب قید کی مشقتوں سے حطیئہ دوچار ہوا تو چند اشعار میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ کو نرم کرنے کی کوشش کی، اور معذرت کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جو معذرت نامے کا مشہور شاعر نابغہ، نعمان بن منذر کے لیے اختیار کرتا تھا، اس کا شعر تھا: أعوذ بجدک إنی امرء سقتنی الأعادی إلیک السجالا ’’میں آپ کی بزرگی کا واسطہ دے کر پناہ کا طالب ہوں۔ میں (بے قصور) آدمی ہوں، میرے دشمنوں نے میرے خلاف آپ کو نفرت کا ڈول پلایا ہے۔‘‘ ولا تأخذنی بقول الوشاۃ فان لکل زمان رجالا ’’آپ چغل خوروں کی باتوں میں آکر میری گرفت نہ کریں، کیونکہ ہر دور میں ایسے بدخواہ پائے جاتے رہے ہیں۔‘‘ فإن کان ما زعموا صادقًا فسیقت إلیک نسائی رجالا [1] عمر بن الخطاب، محمد أبو النصر، ص: ۲۲۰