کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 333
بہرحال دور فاروقی کے شعراء واشعار کے متعلق ادب اور ادباء کی کتابیں ہی مرجع ہیں۔ ۱: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کا شاعرانہ ذوق: خلفائے راشدین میں سب سے زیادہ عمر رضی اللہ عنہ اشعار سننے اور ان کی اصلاح کرنے کا ذوق رکھتے تھے، اسی طرح ان سب سے زیادہ شعر کے ذریعہ سے مثال دینے والے بھی آپ ہی تھے۔ آپ کے بارے میں بعض لوگوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ آپ کے سامنے شاید ہی کوئی معاملہ آتا رہا ہو اور آپ اس پر شعر نہ سناتے رہے ہوں۔ [1] بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن آپ نیا جوڑا زیب تن کرکے نکلے، لوگ آپ کو بہت دھیان سے دیکھنے لگے، اس پر آپ نے انہیں مثال دیتے ہوئے یہ اشعار سنائے: لم تغن عن ہرمز یومًا خزائنہ والخلد قد حاولت عاد فما خلدوا ’’موت کے وقت ہرمز کو اس کے خزانوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قوم عاد نے ہمیشہ آباد رہنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ نہ رہی۔‘‘ أین الملوک التی کانت نوافلہا من کل أوب إلیہا راکب یفد ’’کہاں گئے وہ بادشاہ جن کے چشموں (گھاٹوں) سے ہر طرف سے آنے والا قافلہ سیراب ہوتا تھا۔‘‘ حوض ہنالک مورود بلا کذب لا بد من وردہ یومًا کما وردوا[2] ’’(موت) ایسا حوض ہے جس پر ہر کسی کو یقینا ایک نہ ایک دن آنا ہے جس طرح کہ لوگ اس پر اس سے پہلے پہنچ چکے ہیں۔‘‘ امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ وادی محسر [3] میں اونٹنی کو تیزی سے ہانک رہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے: إلیک تغدو قلقًا و ضیفہا مخالفاً دین النصاری دینہا [4] [1] الدور السیاسی، الصفوۃ، ص: ۴۶۲ تا ۴۶۳ [2] مجمع الزوائد: ۸/ ۱۲۶ [3] المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام : ۲/ ۹۸ [4] البیان، جاحظ: ۱/ ۲۴۱۔ الادب فی الاسلام، نایف معروف، ص: ۱۶۹