کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 332
تحریک کی ایسی بنیاد ڈالی جو ہمیشہ اسلامی فتوحات کے لیے طاقت وقوت کا سبب بنی، اور علماء صحابہ جو دعوت الی اللہ اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے فارغ تھے، اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوگئے کہ مفتوحہ علاقوں میں انہی کے باشندوں میں سے ایسی نسل تیار کردی جس نے دین اسلام کو بخوبی پہچان لیا۔ نیز زبان ولغت کے تباین کا جو پردہ حائل تھا (اور اس کی وجہ سے اسلامی علوم کی افہام وتفہیم میں جو رکاوٹیں آتی تھیں) ان تمام چیزوں پر وہ لوگ قابو پاگئے۔ بے شمار عجمیوں نے لغت اسلام (عربی زبان) سیکھی، اور عہد صحابہ کے بعد بہت سے عجمی (غیر عربی) افراد علمی تحریک کے قائد بن کر ابھرے۔ مختصر یہ کہ مفتوحہ علاقوں میں علمی اور فقہی درس گاہیں کافی اثر انداز ہوئیں، اور ان سے فارغ ہونے والے علماء کی ایک ایسی جماعت تشکیل ہوئی جس نے امت محمدیہ تک صحابہ کرام کا علم پہنچایا، پھر ان کا شمار اس عظیم جماعت میں ہونے لگا، جس نے قرآنِ مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو امت تک پہنچایا، اللہ کے فضل وتوفیق کے بعد صحابہ کے توسط سے علم نبوی کے امت مسلمہ تک پہنچنے کا سہرا بنیادی طور پر ان علمی مدارس کے مؤسسین کے سر جاتا ہے جنہوں نے مکہ، مدینہ، بصرہ، کوفہ اور مصر وغیرہ دوسرے علاقوں میں ان درس گاہوں کی بنیاد رکھی۔ [1] عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان علماء وفقہاء کو اونچا مقام دیا، اور ان کے احوال ومجہودات کی کھوج خبر لیتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کوششوں میں برکت دی اور وہ کوششیں بار آور ہوئیں۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور شعر وشعراء : ادبی تاریخ کی جو روایتیں اور خبریں ہم تک پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ میں شعراء کا قافلہ کافی متحرک تھا، کیونکہ عربی شعر کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے تذکرہ سے خالی نہیں ہے، خاص طور پر ادبی تنقید کے موضوع میں ان کا ذکر ضرور ہے، اور آپ کے زمانے میں عربی ادب پر تنقیدی نظریات کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت اشعار سننے اور روایت کرنے کا بھی وجود تھا۔ نیز عربی ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ عموماً ادبی کتابوں کی استنادی حیثیت ثقہ راویوں پر قائم نہیں ہے، تاہم وہ ادبی وتنقیدی اخبار وروایات جن کا تعلق خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور تابعین سے ہے، سب کا مصدر ومرجع وہی کتابیں ہیں۔ البتہ بعض رجزیہ اشعار جنہیں عہد نبوی میں پڑھا جاتا تھا، اور کتب حدیث میں وہ مذکور ہیں، [2] اسی طرح نابغہ جعدی، [3] امیہ بن ابی صلت اور حسان بن ثابت [4] کے ابیات ان سے مستثنیٰ ہیں۔ [1] البیان والتبیین، جاحظ: ۲/ ۲۱۹ [2] الف باء، بلوی: ۱/ ۴۲۔ اولیات الفاروق، ص: ۴۵۸ [3] تدریب الراوی، السیوطی، ص: ۱۵۲ [4] مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی، ص: ۱۵۱ [5] اولیات الفاروق، ص: ۴۵۸