کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 328
بہرحال آپ داعی ومبلغ، معلم ومدرس اور اپنے معاشرہ کی مثالی شخصیت کی حیثیت سے شام واپس لوٹ گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن غنم اشعری کو بھی دینی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا۔ خلاصہ یہ کہ معاذ، ابودرداء، اور عبادہ رضی اللہ عنہم شامی درس گاہ کی تاسیس کے وہ بنیادی ستون تھے جن پر عمر رضی اللہ عنہ نے اعتماد کیا تھا، اور پھر اس درس گاہ نے اس علاقہ میں دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتربیت کا قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔ مذکورہ افراد کے ساتھ اعلیٰ اخلاق وکردار کی حامل صحابہ کی ایک جماعت تھی، انہی صحابہ کرام کی شاگردی اختیار کرکے شام کے تابعین نے علم حاصل کیااور عزت و شرف کے مقام پر فائز ہو گئے ، ان میں زیادہ مشہور عائذ بن عبداللہ، ابوادریس خولانی، مکحول اور ابوعبداللہ دمشقی وغیرہ ہیں۔ [1] ۶: مصری درس گاہ: یوں تو فاتح مصر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے لشکر میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک تھے، لیکن مصر کے علمی حلقوں میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جو مقام بنایا دوسرے صحابہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، مصر والوں نے عقبہ رضی اللہ عنہ کو عزت ومحبت سے نوازا، ان سے احادیث روایت کیں اور ان کی صحبت اختیار کی، حتیٰ کہ سعد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ مصر والوں کو عقبہ رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کرنا اتنا ہی محبوب تھا جتنا کہ کوفہ والوں کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔[2] مصریوں نے متعدد صحابہ کرام سے علم حاصل کیا، ان میں زیادہ مشہور ابوالخیر مرشد بن عبداللہ الیزنی ہیں۔ انہوں نے عقبہ، عمرو بن عاص [3] اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ان سے علم سیکھا، مصر میں دینی درس گاہوں کے یہ چند اہم مؤسسین ہیں کہ جن کی درس گاہوں کے وجود و ترقی میں اسلامی فتوحات کی تحریک کا خاصا اثر رہا، اور یہ کسی پر مخفی نہیں کہ ان مدارس کی ابتدا ہی سے عمر رضی اللہ عنہ کی ان پر نگرانی تھی۔ چنانچہ جب آپ کے پاس مجاہدین کا لشکر آتا تو آپ اس پر ایک عالم دین مقرر کردیتے، تاکہ وہ فوج کو دین کی باتیں، شرعی احکامات، فقہی اصول اور قرآنِ مجید نیز دیگر پیش آنے والے معاملات میں ان کے سامنے شرعی حل پیش کرے۔ [4] اور جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا تو ان علمی وتربیتی اداروں کی ضرورت بھی پڑی، اس لیے کہ کوفہ، بصرہ اور فسطاط وغیرہ اسلامی شہروں کی شکل اختیار کر چکے تھے، مزید برآں یہی شہر فوجی چھاؤنیاں اور مع اہل وعیال فوج کے رہائشی مراکز، نیز علماء، فقہاء اور مبلغین وواعظین کے اجتماع کا ٹھکانہ بن چکے تھے۔ [5] [1] صفۃ الصفوۃ: ۱/ ۵۰۱۔ الأنصار فی العصر الراشدی، ص: ۸۴۔ [2] صفۃ الصفوۃ: ۱/ ۵۰۱ [3] عبادۃ بن الصامت صحابی کبیر وفاتح مجاہد، د/ وہبۃ الزحیلی، ص: ۸۴ [4] الاکتفاء، الکلاعی: ۳/ ۳۱۰ [5] سیر أعلام النبلاء: ۲/ ۱۲۲۔ الأنصار فی العصر الراشدی، ص: ۱۲۴