کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 327
علم اور ایمان قیامت تک باقی رہیں گے، جو ان دونوں کو تلاش کرے گا انہیں قرآن وسنت میں ضرور پائے گا۔ ہر بات کو قرآن پر پیش کرو، قرآن کو کسی بات پر پیش نہ کرو۔‘‘ [1] گویا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں قرآن ہی وہ میزان ہے جس پر ہر چیز کو تولا جائے گا، لیکن اسے کسی چیز پر نہیں تولا جائے گا۔ پس تعلیم قرآن کے باب میں معاذ رضی اللہ عنہ کا یہی اصول رہا، آپ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اسی اصول کو مضبوطی سے پکڑے رہے، زندگی کے نازک ترین لمحہ، عالم نزع میں جب جب آپ کو قدرے افاقہ ہوتا تو اپنی دونوں آنکھیں کھولتے اور کہتے: ’’اے میرے ربّ مجھ پر میری موت کا جلدی فیصلہ کردے، تیری عزت کی قسم ہے تو جانتا ہے کہ مجھے تجھ سے دلی محبت ہے۔‘‘ [2] رہے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تو ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام کا قاضی اور معلم بنا کر بھیجا۔ آپ نے کچھ دنوں ’’حمص‘‘ میں اقامت کی، پھر دمشق چلے گئے، اور وہاں منصب قضا سنبھالا، اور وہیں کے باشندے ہو کر رہ گئے، اس طرح آپ فلسطین کے سب سے پہلے قاضی تھے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ وہاں کے لوگوں کو قرآن کی بھی تعلیم دیتے تھے، پھر اسی طرح زندگی گزارتے ہوئے وہاں ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [3] عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی علمی، تربیتی اور جہادی سیاست میں کافی حصہ لیا، آپ زہد و ورع اور سادہ زندگی گزارنے والے تھے، جب آپ ’’حمص‘‘ پہنچے تو وہاں کے لوگوں سے کہا: جان لو! یہ دنیا چند روزہ سامان ہے، اور آخرت کا وعدہ سچا ہے، سنو! دنیا کی کچھ خاص اولاد ہیں، اور آخرت کی بھی خاص اولاد ہیں۔ تم آخرت کی اولاد بنو، دنیا کی اولاد نہ بنو، بے شک ہر اولاد اپنی ماں کے تابع ہوتی ہے۔ [4] عمر رضی اللہ عنہ انہی معانی کو مسلمانوں کے دلوں میں راسخ کرنے کے حریص تھے، اسی لیے آپ ذمہ داریوں کے لیے ایسے ہی صحابہ کا انتخاب کرتے تھے جو لوگوں کو اسلام کی روحانی تعلیمات سے آشنا کرا سکیں اور خود اُن کی زندگی اسلامی تعلیمات کا پیکر ہو۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھلائی کا حکم دیتے، اور برائی سے روکتے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی ملامت گر کی ملامت کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپ فلسطین کے قاضی تھے تو کسی چیز کے بارے میں شام کے حکمران کو آپ نے ٹوکا، اور کہا: یہاں کی سرزمین پر تمہارے ساتھ میں نہیں رہ سکتا اور پھر آپ مدینہ چلے آئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ کیوں چلے آئے؟ انہوں نے پورا واقعہ بتایا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جاؤ، تم اپنی جگہ واپس جاؤ، اللہ ایسی زمین کا بھلا نہ کرے جہاں آپ جیسے لوگ نہ رہیں، وہ آپ پر حاکم نہیں رہے گا۔[5] [1] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۸۵۔ سیر أعلام النبلاء: ۱/ ۲۸۵ [2] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۸۵ [3] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۸۵۔ حلیۃ الأولیاء: ۱/ ۲۳۹