کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 325
آپ کے شاگردوں نے پوچھا کہ ’’امت‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے کہا: جو شخص لوگوں کو خیر کی تعلیم دے۔ (وہ تنہا امت ہے) پھر آپ نے خود پوچھا: کیا ’’ قانت‘‘ کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرنے والا ’’ قانت‘‘ ہے۔ [1] حقیقت میں معاذ رضی اللہ عنہ ایسے ہی تھے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کی علمی بلندی، فقیہانہ مقام ومرتبہ اور اخلاق حسنہ کو دیکھ کر انہیں ابراہیم خلیل اللہ نبی علیہ السلام سے تشبیہ دیتے تھے، نیز اسلامی فقہ کی گہری معلومات کی امتیازی صفت نے آپ کو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا جواب دینے پر قادر بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی نگاہ میں آپ کی بہت عزت ومقبولیت تھی۔ [2] سیّدنا معاذکے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عورتیں معاذ کی طرح انسان جننے سے بانجھ ہوگئیں۔ [3] عمر رضی اللہ عنہ کو جب کوئی مشکل معاملہ پیش آتا تو اپنے مشیروں سے مشورہ لیتے، ان مشیروں میں انصاری لوگوں میں سے معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہوتے۔ [4] اس لیے کہ ان لوگوں کو فقہی بصیرت اور نووارد مسائل کی عملی وواقعی تفسیر پر قدرت حاصل تھی، اس سلسلے میں انہیں مہارت تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی یہ لوگ فتویٰ دیتے تھے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاذ اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کی احادیث سننا بہت پسند کرتے تھے، کہتے: مجھے دونوں عقل مندوں کی احادیث سناؤ، آپ سے پوچھا جاتا کہ کون ہیں دونوں عقل مند؟ تو آپ کہتے: معاذ اور ابودرداء رضی اللہ عنہما جو دونوں انصار میں سے ہیں۔[5] جب خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے باب جابیہ پر خطبہ دیا تو کہا: جو شخص اسلامی فقہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے۔ [6] ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ اپنے دارالخلافہ میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے افراد سے مستغنی نہیں ہوسکتی، اسی لیے آپ معاذ رضی اللہ عنہ کے مدینہ سے چلے جانے کے سخت مخالف تھے۔ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ان کے مدینہ سے چلے جانے کی وجہ سے اہل مدینہ کا فقہ و فتویٰ میں کافی نقصان ہوا۔ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی تھی کہ لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر انہیں مدینہ میں روک لیں، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ وہ ایسے آدمی ہیں جنہیں [1] اصحاب الرسول : ۲/ ۲۰۹ [2] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۵۶ [3] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۵۶ [4] الاکتفاء، الکلاعی: ۳/ ۳۱۱ [5] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۱۲۰