کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 320
ایسی بستی (یعنی کوفہ) والوں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ قرآن کی تلاوت کو اس طرح گنگناتے ہیں جس طرح شہد کی مکھی بھنبھناتی رہتی ہے۔ انہیں حدیثوں کے ذریعہ سے اس سے نہ روکو کہ وہ اسی میں مشغول ہوجائیں، اور قرآن کو نظر انداز کردیں، انہیں قرآن پڑھنے دو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات کم بیان کرو، اور جاؤ میں بھی تم لوگوں کے ساتھ ہوں۔ [1] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں قرآن کے ساتھ اشتغال کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے، چنانچہ جب آپ نے سنت کو یک جا کرنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا، جب انہوں نے اس کام کو مکمل کرنے کا آپ کو مشورہ دے دیا تب بھی آپ ایک مہینہ تک اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے رہے، ایک دن صبح کے وقت اللہ کی توفیق سے آپ نے اپنا فیصلہ پختہ کرلیا، اور کہا: میں چاہتا تھا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو صفحہ تحریر پر لے آؤں(یک جا کر دوں)، لیکن مجھے وہ لوگ یاد آگئے جو تم سے پہلے تھے، انہوں نے خود نوشتہ کتابیں تیار کیں، پھر اس پر آنکھیں موند کر ٹوٹ پڑے، اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا، اللہ کی قسم! میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کسی دوسری چیز کو مخلوط نہ ہونے دوں گا۔ [2] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فکر کی بنیاد یہ تھی کہ قرآنِ کریم لوگوں کے دلوں میں راسخ ہوجائے، وہ اس سے اعراض نہ کریں، قرآنی تعلیمات مسلم معاشرہ کی جڑوں میں پیوست رہیں، اور قرآنی علوم کو دوام واستقرار نصیب ہو، لوگ قرآنِ مجید اور دیگر اسلامی علوم بشمول حدیث نبوی، دونوں کے درمیان فرق کرسکیں۔ [3] قرآنِ کریم پر خصوصی توجہ اور اسے چھوڑ کر دیگر علوم میں انہماک سے ممانعت کی تاکید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے تھی اور عمر رضی اللہ عنہ کی فکر اور مذکورہ اقدام، تعلیماتِ نبوی کی اتباع وپاس داری ہی کا نتیجہ تھا۔ [4] سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جو علم وفہم کی روشنی میں دعوت الی اللہ کا کام کرے، آپ کے شاگرد یا جو لوگ ان کے شاگرد ہوئے سب کے دلوں میں آپ کا ایک اعلیٰ مقام تھا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی آپ کے علم وفضل کی برتری کی شہادت دی ہے۔ زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ایک دبلا پتلا آدمی نظر آیا، عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے، اور آپ کے چہرے پر خوشیاں نمودار ہوگئیں، پھر آپ نے کہا: یہ شخصیت علم کا سمندر ہے،یہ شخصیت علم کا سمندر ہے،یہ شخصیت علم کا سمندر ہے۔ ہم نے دیکھا تو وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔[5] [1] انس بن مالک الخادم الامین، عبدالحمید طہماز، ص: ۱۴۹ [2] سیر اعلام النبلاء: ۳/ ۳۹۵ [3] الانصار فی العصر الراشدی، ص: ۲۷۱ [4] مجمع الزوائد: ۹/ ۲۹۱۔ اس کی سند میں حارثہ کے علاوہ بقیہ تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ، اور حارثہ بھی ثقہ ہیں ۔ [5] السلطۃ التنفیذیۃ: ۱/ ۲۵۲ [6] فتح الباری: ۸/ ۶۲۵۔ الخلافۃ الراشدۃ، د/ یحییٰ، ص: ۳۰۹