کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 318
حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ التہذیب کے مؤلف نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والوں کی تعداد تقریباً دو سو (۲۰۰) بتائی ہے۔ [1] انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دو ہزار دو سو چھیاسی (۲۲۸۶) احادیث روایت کی ہیں۔ ایک سو اسی (۱۸۰) احادیث متفق علیہ ہیں اور اَسّی (۸۰) احادیث روایت کرنے میں امام بخاری اور (۹۰) نوے احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔ [2] انس بن مالک تابعین علماء مثلاً حسن بصری، سلیمان تیمی، ثابت البنانی، زہری، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، ابراہیم بن میسرہ، یحییٰ بن سعید الانصاری، محمد بن سیرین، سعید بن جبیر اور قتادہ وغیرہ کے استاذ مانے جاتے ہیں۔[3] انس بن مالک نے روایت وتعلیم دونوں اعتبار سے سنت مطہرہ کی خدمت کا اہتمام کیا اور علمی اوصاف کے مالک رہے، خلافت راشدہ کی خدمت میں چند ایک بہت ہی اہم کارنامے انجام دئیے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اسلامی دور حکومت میں آپ کو بعض اہم مناصب پر فائز کیا۔ خاص طور پر ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جب عہد فاروقی میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی حکومت سنبھالی تو انس رضی اللہ عنہ کو اپنا قریبی بنایا اور انہیں اپنا خاص فرد سمجھا۔ چنانچہ ثابت، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، لوگ باتیں کررہے تھے اور دنیا کا ذکر چھیڑے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس! آؤ، ہم لوگ کچھ دیر اپنے ربّ کا ذکر کرلیں۔ پھر کہا: لوگوں کو کس چیز نے پیچھے دھکیل دیا ہے؟ (یعنی ان کی پسماندگی کا سبب کیا ہے؟) میں نے کہا: دنیا، شیطان اور بری خواہشات۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ دنیا مقدم کردی گئی اور آخرت کو نگاہوں سے غائب کر دیا گیا۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں سے آخرت کا مشاہدہ کرلیں تو ذرّہ برابر اِدھر اُدھر نہ بھٹکیں۔ [4] سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا اعتماد ہی تھا جس کی وجہ سے آپ انہیں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے لوگوں کے حالات دریافت کیے۔ [5] اور ’’ تُسْتَر‘‘ فتح ہونے کے بعد ابوموسیٰ نے آپ کو عمر رضی اللہ عنہ کے [1] أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم، ص: ۱۲۹ [2] سیر أعلام النبلاء: ۲/ ۳۸۱ [3] أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم المجاہد، ص: ۱۳۲ [4] تہذیب الاسماء واللغات: ۱/ ۱۲۷ [5] تفسیر التابعین: ۱/ ۴۲۳ [6] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۰۲۹ [7] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۸۱