کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 317
ابوموسیٰ اشعری نے آپ کے پاس لکھا کہ میرے پاس قرآن کے حفاظ کی تعداد تین سو (۳۰۰) اور کچھ ہوگئی ہے۔ [1] ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث کی روایت وتعلیم کا بھی خاص اہتمام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری احادیث روایت کیں اور کبار صحابہ سے بھی روایات بیان کیں، نیز آپ سے دیگر صحابہ اور کبار تابعین نے روایت کیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری سے بریدہ بن حصیب، ابوامامہ باہلی، ابوسعید خدری، انس بن مالک، طارق بن شہاب، سعید بن مسیب، اسود بن یزید، ابووائل شقیق بن سلمہ، اور ابوعثمان نہدی وغیرہ بہت سارے لوگوں نے روایت کیا ہے۔ [2] آپ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی سے عمل کرنے والے تھے، اس کی سب سے بڑی دلیل آپ کی وہ وصیت ہے جو آپ نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد سے کی تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید لگاؤ کے باوجود آپ نے زیادہ احادیث بیان نہیں کیں، جیسا کہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ تھا۔ وہ لوگ لغزش اور غلطی کے خوف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں کافی احتیاط برتتے تھے۔ اسی احتیاط کے پیش نظر عمر رضی اللہ عنہ اپنے عمال کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ قرآن سیکھنے سکھانے کا اہتمام کریں اور احادیث زیادہ روایت کرنے سے پرہیز کریں۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کی اطاعت پر سختی سے کاربند تھے۔ [3] اور جہاں تک انس بن مالک النجاری الخزرجی رضی اللہ عنہ کی بصرہ کی زندگی کے تعارف کی بات ہے تو معلوم ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، خادم رسول کہے جاتے تھے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے اور انہیں اس کا حق بھی تھا۔ [4] وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی اس وقت میں ایک بچہ تھا۔ [5] نیز کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو میں دس سال کا لڑکا تھا اور جب آپ کی وفات ہوئی اس وقت میں بیس سال کا نوجوان تھا۔ [6] انس بن مالک کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ مال واولاد اور درازیِ عمر کی دعا کی تھی۔ آپ نے کہا تھا: (( اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَبَارِکْ لَہٗ فِیْہِ۔)) [7] ’’اے اللہ اس کے مال واولاد میں اضافہ کردے اور اس میں برکت عطا فرما۔‘‘ [1] سیر أعلام النبلاء: ۲/ ۲۸۹ [2] أبوموسیٰ اشعری الصحابی العالم، ص: ۱۲۵، ۱۲۶ [3] أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم، ص: ۱۲۷ [4] أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم، ص:۱۲۸