کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 315
پر ثابت قدمی میں شہرت پائی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا شمار صحابہ کرام کے بڑے بزرگ علماء، فقہاء اور مفتیان میں ہوتا ہے۔ علامہ ذہبی نے صحابہ کے طبقہ اولیٰ کے حفاظ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ عالم باعمل، نیک وپارسا، اور قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے تھے۔ بہترین آواز میں قرآن کی تلاوت آپ پر بس تھی، آپ نے بابرکت اور بہترین علم کے جوہر بکھیرے، بصرہ والوں میں سب سے زیادہ قرآن کے پڑھنے اور سمجھنے والے تھے۔ [1]اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، آپ نے بزرگ صحابہ مثلاً عمر، علی، ابی بن کعب، اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی اللہ عنہم سے بھی علم حاصل کیا۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ سے خاص طور سے بہت متاثر تھے۔ بصرہ میں آپ کی طویل مدتی امارت کے درمیان عمر رضی اللہ عنہ آپ کو نصیحتیں کرتے اور خطوط ارسال کرتے تھے۔ اسی طرح ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی اپنے تمام پیش آمدہ مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ شعبی نے آپ کو امت کے چار مشہور قاضیوں میں سے ایک قاضی شمار کیا ہے۔ امت کے چار مشہور قاضیوں میں یہ ہیں: عمر، علی، زید بن ثابت، اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ [2] ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ جب مدینہ تشریف لاتے تو پوری کوشش کرتے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلسوں میں ضرور شریک ہوں۔ کبھی کبھار اپنا کافی وقت انہی کے ساتھ گزار دیتے۔ چنانچہ ابوبکر بن ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا: آپ سے بات کرنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس وقت؟ انہوں نے جواب دیا: دین سمجھنے سمجھانے کی بات ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور دونوں دیر رات تک باتیں کرتے رہے۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! نماز پڑھ لیں، آپ نے فرمایا: ہم اب تک نماز ہی میں تھے۔[3] جس طرح ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حصولِ علم اور تعلیم کے شوقین تھے اسی طرح علم کی نشر واشاعت اور لوگوں کی تعلیم وتبلیغ کے بھی حریص تھے۔ اپنے خطبہ میں لوگوں کو تعلیم وتعلّم پر ابھارتے تھے۔ چنانچہ ابو مہلب کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جسے اللہ نے علم سے نوازا ہو اسے چاہیے کہ دوسروں کو تعلیم دے، اور جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولے، کیونکہ اس سے وہ تکلف کرنے والوں اور دین سے نکل جانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ [4] ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی مسجد کو اپنے علمی نشاط کا مرکز بنایا تھا اور اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ علمی مجالس کے لیے خاص کردیا تھا۔ صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کوئی لمحہ ایسا نہ گزرتا تھا جسے آپ تعلیم، تدریس اور [1] سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۳۷۹۱۔ امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [2] تفسیر التابعین: ۱/ ۵۱۰ [3] تفسیر التابعین: ۱/ ۴۲۲ [4] تفسیر التابعین: ۱/ ۴۲۲۔ ابن حبان نے پچاس سے زیادہ مشہور صحابہ کا ذکر کیا ہے جو بصرہ آئے تھے۔ [5] طبقات ابن سعد: ۷/ ۲۶۔ صحیح مسلم: ۱/ ۶۵ [6] تفسیر التابعین: ۱/ ۴۲۳