کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 313
بدری انصار و مہاجرین صحابہ ہوتے تھے۔ [1] آپ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہتے تھے: یہ تم بوڑھوں کا نوجوان ہے اس کے پاس خوب سوال کرنے والی زبان اور خوب سمجھنے والی عقل ہے۔[2] طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے پر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے۔ [3] ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی زیادہ تر وقت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی گزارتے تھے اور ان سے مسائل پوچھنے اور علم حاصل کرنے کے حریص تھے، اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ کی تفسیر کو صحابہ کرام میں سب سے زیادہ آپ نے نقل اور روایت کیا ہے، بعض علماء نے یہ اشارہ کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا بیشتر علم عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھا تھا۔ [4] عمر رضی اللہ عنہ کی توجہ اور ان کی قربت کی وجہ سے مکی مدرسہ کے امام یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کو مذکورہ خصوصیات اور فضائل نصیب ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مذکورہ خصوصی توجہ ہی نے آپ کو علم کے میدان میں بالخصوص فن تفسیر میں پیش قدمی کرنے میں بڑھ چڑھ کر تعاون کیا۔ [5] ۲: مدنی درس گاہ: مدینہ کو خصوصی حیثیت دینے، اسے فقہ وفتاویٰ اور علوم شرعیہ کا مرکز بنانے میں فاروقی اقدام اور خالص علمی زندگی کے لیے جن لوگوں نے خود کو وقف کیا تھا، ان تمام چیزوں کے بارے میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ہمیں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ زید بن ثابت کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں روک لیا تھا۔ اس لیے ان کے شاگردوں کی تعداد بھی زیادہ رہی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو مختلف شہروں میں بھیج دیا، البتہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں روک لیا، وہ مدینہ والوں کو فتویٰ دیتے تھے۔ حمید بن اسود کہتے ہیں: اہل مدینہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد جس طرح امام مالک کے قول پر عمل کیا اس طرح کسی اور بات پر عمل نہ کیا۔ [6] زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے شاگرد عطا کیے اور انہوں نے اپنے اساتذہ کی باتوں کو یاد کیا، اور ان کے نقوش وعلوم کی نشر واشاعت کی۔ [7] عامر شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیگر لوگوں پر دو چیزوں میں فوقیت تھی؛ علم فرائض اور علم قرآن میں۔ [8] [1] تفسیر الطبری: ۴/ ۲۴۵۔ الدر المنثور: ۱/ ۵۷۸ [2] فضائل الصحابۃ، أحمد بن حنبل: (۲/ ۹۸۱) (۱۹۴۰) [3] تفسیر التابعین: ۱/ ۳۷۹