کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 305
لوگوں کے سامنے حکیمانہ اقوال اور مثالی نقوش کی شکل میں اور ایسی زبان میں رائج رہا جس کے بیان ووضاحت کی کوئی انتہا نہیں۔ مثلاً آپ کا یہ قول کہ ’’تم نے کب سے ان کو غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟‘‘ اور یہ قول کہ ’’اس معاملہ کے لیے نرمی ہی مناسب ہے مگر وہ نرمی جس میں کمزوری نہیں اور سختی مناسب ہے، مگر وہ سختی جس میں ظلم وجبر نہیں۔ ‘‘ اور یہ فرمان کہ ’’میں امارت کے لیے ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ اگر وہ قوم میں قوم کا امیر بن کر رہے تو خود کو اسی کا ایک فرد سمجھے اور اگر ان میں بلا امارت کے ہو اور انہی کا ایک فرد ہو تو خود کو امیر سمجھے۔ ‘‘ اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کا یہ قول کہ ’’میں طاقتور کے ظلم اور پرہیزگار کی درماندگی کی شکایت صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔ ‘‘ نیز آپ کا یہ کہنا کہ ’’جو برائی کو نہیں پہچانتا وہ زیادہ قریب ہے کہ اس میں واقع ہوجائے۔‘‘ اور آپ کا یہ فرمان کہ ’’میں دغا باز نہیں ہوں اور نہ کوئی دغا باز مجھ کو دھوکا دے سکتا ہے۔‘‘ [1] اور آپ کا یہ زرّیں قول کہ ’’اللہ تعالیٰ نے جو کام کرنے کا حکم دیا اس پر مدد کی اور جس کام سے منع کیا اس سے بے نیازی بھی عطا کی۔‘‘ [2] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فقہ وفتاویٰ کا مرکز بنانا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے، اس وقت مدینہ اسلامی ریاست کا دارالخلافہ اور خلافت اسلامیہ کا مرکز تھا۔ وہیں پر صحابہ کرام اسلامی احکام کے استخراج واستنباط میں سرتوڑ کوشش کرتے تھے۔ جو فتوحات کی کثرت اور اسلامی دائرۂ حکومت کی وسعت کے بعد اسلامی معاشرہ میں پیدا ہونے والے جدید حالات کی ایک ضرورت تھی۔ دیگر شہروں کے مقابلے میں مدینہ کا ایک مخصوص وممتاز مقام تھا، مدنی معاشرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزاری اور اسی سماج میں آپ کے ہاتھوں سے ان غنچوں کی تربیت ہوئی تھی، جو خیر الامت تھے اور لوگوں کی اصلاح کے لیے تھے۔ اس خصوصیت کی بنا پر کوئی دوسرا معاشرہ مدنی معاشرہ کا ہم سر نہیں ہوسکتا، نیز مدت خلافت کے ابتدائی دس سالوں تک منفرد ذاتی خصوصیات اور کامیاب حکومتی سیاست کے ساتھ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی کا ایک بڑا اثر یہ ہوا کہ پہلی اور دوسری صدی میں مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیث وفقہ اور قانون شریعت کا پہلا مدرسہ بن کر سامنے آیا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا … خصوصاً ان صحابہ کا جنہوں نے ابتدائی [1] التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۷۲