کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 304
والا، خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذلت ورسوائی کا سامنا کرتا ہے اور جسے اس رسوائی کا سامنا کرنا پڑا وہ کھلے ہوئے نقصان وخسارہ میں ہوگیا۔ جس نے تمہارے حق میں برا کیا اسے اسی طرح برا بدلہ نہ دو، بلکہ اس کے حق میں بھلائی کا مظاہرہ کرو: اگر آپ کا کسی سے جھگڑا واختلاف ہو اور مخالف تمہاری وجہ سے اللہ کی نافرمانی کرے، بایں طور کہ تم پر دست درازی کرے، یا تمہاری بے عزتی کرے، یا تمہارا مال لے لے، تو اس سے بہتر بدلہ اسے یہ دو کہ اس کے حق میں بھلائی کا مظاہرہ کرو، یعنی جھگڑے واختلاف کے اسلامی آداب کی رعایت کرو اور اپنے مسلمان بھائی کے حق کی حفاظت واحترام کرو۔ جس گھٹیا پن میں اس نے تمہیں مخاطب کیا ہے اسی درجہ میں اتر کر تم اس کا جواب نہ دو، اور اگر معاف کردو اور اپنے حق سے تنازل کرلو تو یہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت ہوگی۔ سچے بھائیوں کو دوست بناؤ: جی ہاں! بہت سے ایسے بھائی ہیں جو تمہارے حقیقی بھائی نہیں ہیں۔ ہاں سچے بھائی وہ ہیں جن کے دل خالص تقویٰ کی بنیاد پر محبت کرتے ہیں۔ وہ لوگ حقیقی بھائیوں سے زیادہ قربانی دینے والے اور احسان کرنے والے ہوتے ہیں۔ (بشرطیکہ حقیقی بھائی اس طرح نہ ہوں۔) پس آسانی وسکون کے وقت سچے بھائیوں کی دوستی انسان کے لیے باعث سعادت ہے۔ وہ ان سے مل کر خوش ہوتا ہے، اور نیکی، احسان نیز اصلاح ورہنمائی کے کاموں میں ان کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور جب مصیبت آجاتی ہے تو انہیں پوری قوت کے ساتھ حاضر پاتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ اپنے بھائیوں کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں، مال خرچ کرنے اور قربانی دینے میں مقابلہ کرتے ہیں اور مشکل سے مشکل کاموں کی انجام دہی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں کتنی ہی سخت ضرورت کیوں نہ ہو۔ [1] یہ ہیں چند فاروقی حکیمانہ اقوال جو لوگوں میں ضرب المثل بن چکے ہیں۔ عربی ادب کے ناقدین آج تک متنبی کے حکیمانہ اقوال کو حیرت واستعجاب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس نے اپنے دور میں انسانی تجربات کا خلاصہ پیش کردیا ہے۔ حالانکہ متنبی کے حکیمانہ اقوال کسی اعتبار سے اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکیمانہ اقوال کے ساتھ ذکر کیا جائے یا کسی میدان میں ان کے ساتھ موازنہ کیا جائے۔ متنبی نے اپنے حکیمانہ اقوال میں لوگوں کے تجربات کی تلخیص واختصار کیا ہے، جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لوگوں کے لیے خود وضع کیا ہے۔ آپ کی جو باتیں حکومت، عدلیہ یا اخلاقیات کے لیے دستوری درجہ رکھتی ہیں وہ مکمل دستور تھیں، لیکن انہیں طویل رپورٹوں کی شکل میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ قانونی زبان میں انہیں تحریر کیا گیا۔ وہ دستور [1] التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۷۱ [2] التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۷۱