کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 303
جس نے اپنا راز راز رکھا، بھلائی اس کے ہاتھ میں رہی: اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک انسان کا راز اس کے دل میں پوشیدہ ہوتا ہے خود اپنی ذات کا حاکم ہوتا ہے، لیکن اگر کسی ایک یا زیادہ لوگوں کو اپنے راز کی بات بتا دی اور مصلحت اس بات میں سمجھتا ہے کہ راز فاش نہ ہو تو اس راز کو واپس لینے کی اس میں طاقت نہیں ہے۔ جس نے خود کو مقام تہمت پر کھڑا کیا وہ اپنے ساتھ بدظني کرنے والوں کو ملامت نہ کرے: اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان دوسروں سے پہلے خود اپنا مالک ہے، لہٰذا اس پر ضروری ہے کہ بقدر استطاعت خود کو تہمت کے مقامات سے دور رکھے اور جب اسے یہ محسوس ہو کہ کچھ لوگ ہمارے عمل سے ہماری نیت کے خلاف کوئی دوسری چیز مراد لے رہے ہیں تو اگرچہ خود ثقہ مند لوگوں میں شمار ہوتا ہو اور معاشرہ میں اچھی شہرت ہو پھر بھی فوراً حقیقت حال سے باخبر ہو کر شبہ کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے کہا تھا جنہوں نے آپ کو رات میں عورت کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا تھا کہ (( علی رسلکما انہا صفیۃ بنت حُي۔)) [1] ’’ٹھہرو، یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حي ہیں۔‘‘ اگر تمہارے بھائي کی زبان سے تمہارے حق میں بري بات نکل گئي اور تمہیں اس میں خیر کا پہلو نظر آرہا ہے تو اس کے ساتھ ہرگز بدگماني نہ کرو: بدظنی سے بچنے کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی یہ کتنی اہم توجیہ ورہنمائی ہے۔ ہر مسلمان سے شرعاً مطلوب ہے کہ تمام مسلمانوں سے حسن ظن رکھا جائے اور ان کی جو باتیں یا کلمات بظاہر غلطی پر مبنی ہیں انہیں صحیح معنوں پر محمول کرنے کی کوشش کی جائے، اِلا یہ کہ وہ باتیں خالص برائی پر ہی مشتمل ہوں۔ پس یہی ہر مسلمان سے مطلوب ہے جب کہ ساتھ ہی اسے اپنے اور اپنے ماتحتوں کے بارے میں چوکنا بھی رہنا چاہیے، تاکہ حسن ظن کی بنا پر کہیں وہ مار نہ کھا جائے۔ [2] زیادہ قسمیں نہ کھاؤ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کردے: اللہ کی قسم کھانا اس کی تعظیم ہے، لہٰذا اگر بقدر ضرورت اور اللہ کی تعظیم نیز اس کے خوف وخشیت کی نیت سے قسم کھائی جائے تو اللہ کی توحید اور اس کی عظمت وجلال کا اعتراف ہوتا ہے، لیکن اگر مسلمان کثرت سے یہاں تک کہ گھٹیا سے گھٹیا چیزوں میں بھی قسمیں کھاتا ہے تو اس قسم میں اللہ کی تعظیم نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین اور اس کی جلالت کا انکار ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بکثرت قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے [1] التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۶۷ [2] التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۶۷ [3] تاریخ دمشق: ۴۴/ ۳۵۹۔ التاریخ الإسلامی: ۲۰/ ۲۷۰