کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 287
’’تو آپ نے میرے بارے میں اتنا غلط گمان کرلیا جس کے بعد وطن میں بقا ممکن نہیں رہی، اب دور رہنے میں مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ و یمنعنی مما تظن تکرمی و آباء صدق سالفون کرام ’’اور آپ نے جو کچھ بھی گمان کیا، اسے ماننے سے میری شرافت اور میرے آبا واجداد جو معزز بزرگان میں سے تھے ان کی صداقت ودیانت کی سابقہ روایت یکسر انکار کرتی ہے۔‘‘ و یمنعہا مما تظن صلاتہا و حال لہا فی قومہا و صیام ’’اور جو کچھ آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، اس کی پابندی نماز و روزہ اور اس کی قوم میں اس کا اچھا مقام ہے۔‘‘ فہذان حالات فہل انت راجعی فقد جبّ منی کاہل و سنام ’’یہ ہم دونوں کی حالت ہے، تو کیا آپ مجھے لوٹنے کی اجازت دیں گے۔ جب کہ میرا مونڈھا اور کوہان کاٹ دیا گیا۔ (یعنی میں بہت پریشان ہوں۔)‘‘ إمام الہدی لا تبتل الطرد مسلمًا لہ حرمۃ معروفۃ و زمام ’’اے ہدایت کے امام! کسی مسلمان کو جلا وطنی کی آزمائش میں مت مبتلا کیجیے، اس کا احترام آپ کو معلوم ہے اور اس کا اپنا مقام ہے۔‘‘ یہ خط پڑھنے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حاکم وقت اب تو اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بہرحال نصر بن حجاج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی مدینہ لوٹ سکے۔ [1] عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ رات کو گشت کررہے تھے تو اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا، آپ مدینہ میں گشت کررہے تھے تو سنا کہ چند عورتیں آپس میں باتیں کررہی تھیں اور پوچھ رہی تھیں کہ مدینہ کا سب سے خوب صورت نوجوان کون ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ابوذؤیب ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت ابوذؤیب کو طلب کیا، واقعتا وہ کافی خوب صورت تھے۔ آپ نے فرمایا: سنو! یقینا تم عورتوں پر بہت اثر انداز ہونے والے ہو، جاؤ یہاں سے چلے جاؤ، یہاں میرے ساتھ کبھی نہ رہنا۔ نوجوان نے کہا: اگر آپ مجھے [1] مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی، ص: ۹۲