کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 283
ألاعبہ طورا وطورا کأنما بدا قمرًا فی ظلمۃ اللیل حاجبہ ’’لمحہ لمحہ میں اس سے کھیلوں، جیسے رات کے اندھیرے میں بادل کے افق سے چاند نکل کر آنکھ مچولی کرتا ہے۔‘‘ یسر بہ من کان یلہو بقربہ لطیف الحشا لا تجتویہ أقاربہ ’’اس سے نزدیک رہ کر جو اس سے کھیلتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے، نرم ونازک پسلیوں والا اس کے خویش واقارب اسے ناپسند نہیں کرتے۔‘‘ فواللّٰه لولا اللّٰه لا شیء غیرہ لحرک من ہذا السریر جوانبہ ’’اللہ کی قسم! اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا، اس کے سوا کسی کا خوف نہیں، تو اس چارپائی کے پائے حرکت میں ہوتے۔‘‘ ولکننی أخشی رقیبًا موکلًا بأنفسنا لا یفتر الدہر کاتبہ[1] ’’لیکن میں ایک نگراں کار سے ڈرتی ہوں جو ہمارے اوپر مسلط ہے اور کبھی کسی وقت اس کا لکھنے والا نہیں تھکتا۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے، پھر آپ نے اس کے پاس کپڑے اور گھریلو اخراجات بھجوائے اور اس کے شوہر کے پاس خط بھجوایا کہ اپنی بیوی کے پاس آجائے۔ [2] اور ایک روایت میں آیا ہے کہ پھر آپ اپنی صاحبزادی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، انہوں نے پوچھا: امیرالمومنین! اس وقت آپ کو آنے کی کیا ضرورت پڑگئی؟ آپ نے کہا: اے میری بیٹی! عورت اپنے شوہر کی جدائی کب تک برداشت کرسکتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مہینہ، دو مہینہ اور زیادہ سے زیادہ تین مہینہ تک، چوتھے مہینہ میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم نافذ کردیا کہ مجاہدین کو (ان کے اہل وعیال سے) چار مہینوں سے زیادہ نہ روکا جائے۔ [3] یہ ہے ایک مجاہد کے لیے اس کی بیوی سے جدائی کی مدت متعین [1] البدایۃ والنہایۃ: ۷/ ۱۴۰