کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 282
عیدگاہ میں پڑاؤ ڈالا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آج رات ان کی نگرانی وپہرہ داری میں تم ہمارا ساتھ دو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں ضرور ساتھ دوں گا۔ چنانچہ دونوں نے نگرانی کرتے ہوئے شب بیداری کی اور باری باری نماز پڑھتے رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے قافلہ سے ایک بچہ کے رونے کی آواز سنی، آپ اس کے پاس گئے اور اس کی ماں سے کہا: اللہ سے ڈر اور اپنے بچے پر رحم کر، اتنا کہہ کر آپ اپنی جگہ واپس لوٹ آئے۔ رات کے آخری حصہ میں آپ نے پھر بچے کے رونے کی آواز سنی، آپ اس کی ماں کے پاس آئے اور کہا: تیری بربادی ہو، تو بہت بری ماں ہے۔ کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا بچہ پوری رات روتا رہا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے، میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں لیکن وہ نہیں چھوڑتا۔ آپ نے پوچھا: تم ایسا کیوں کررہی ہو؟ اس نے کہا: اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ بچے کا وظیفہ اسی وقت جاری کرتے ہیں جب وہ دودھ پینا چھوڑ دے … آپ نے یہ قانون بنایا تھا کہ ہر اس بچے کو وظیفہ دیا جائے جو دودھ پینا چھوڑ چکا ہو … آپ نے پوچھا: تمہارے اس لڑکے کی کتنی عمر ہے؟ اس نے کہا: اتنے اتنے مہینے کا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: تیرا برا ہو، اسے دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کر اور جب آپ نے فجر کی نماز اس طرح مکمل کی کہ رونے کی وجہ سے آپ کی قراء ت صاف سنائی نہیں دیتی تھی تو نماز کے بعد فرمایا کہ بربادی ہے عمر کی! اس نے کتنے مسلمان بچوں کا قتل کرڈالا، پھر آپ نے اعلان کرنے والے سے اعلان کروایا: اپنے بچوں کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کرو، ہم مسلمان بچے کا وظیفہ اس کی تاریخ پیدائش ہی سے مقرر کردیتے ہیں اور پھر پوری حکومت میں یہی فرمان بھیج دیا۔ [1] سبحان اللہ! کیا ہی خوب صورت واقعہ ہے اور کتنا عظیم انصاف۔ پھر اس واقعہ کے بعد ہر مسلم بچے کا نام پیدائش کے وقت ہی عطیات کے رجسٹر میں درج کیا جانے لگا اور اسے مسلمانوں کے بیت المال سے وظیفہ ملنے لگا۔ اس لیے کہ بیت المال میں تمام مسلمانوں کا حق ہے اور جو بیت المال کا نگران وذمہ دار ہو وہ اس کا امین ہے۔ اس کے لیے بیت المال میں بے جا تصرف کرنا جائز نہیں اور نہ ہی کسی مستحق کو اس کے حق سے روکنا جائز ہے۔ فوجیوں کے لیے ان کی بیویوں سے جدائی کی مدت مقرر کرنا: عمر رضی اللہ عنہ کے راتوں میں گشت کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ ایک مرتبہ آپ مدینہ کی گلی کوچوں میں گشت کررہے تھے، دورانِ گشت آپ نے ایک عورت سے درد بھرے یہ اشعار سنے: تطاول ہٰذا اللیل تسری کواکبہ وارقنی أَن لا ضجیع ألاعبہ ’’یہ رات پھیلتی چلی گئی، اس کے ستارے (جگمگاتے ہوئے) چل رہے ہیں، اس چیز نے میری نیند اڑا دی کہ یہاں کوئی ہم بستر نہیں جس سے میں کھیل کر دل بہلا سکوں۔‘‘ [1] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۶۱ [2] عبقریۃ الإسلام فی اصول الحکم، ص: ۳۲۲ [3] فن الحکم، ص: ۳۶۴